خواندگی کا عالمی دن‘ پاکستان میں دو کروڑ بچےتعلیم سے محروم -
The news is by your side.

Advertisement

خواندگی کا عالمی دن‘ پاکستان میں دو کروڑ بچےتعلیم سے محروم

کراچی: آج پاکستان سمیت دنیابھر میں خواندگی کا عالمی دن منایا جارہاہے‘ پاکستان میں دو کروڑ سے زائد بچے اور نوجوان تعلیم سے محروم ہیں۔

خواندگی کے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر خواندگی میں اضافے کیلئے کوششوں میں شامل ہوں اور پرامن اور انصاف پر مبنی پائیدار معاشرہ تشکیل دیں۔

l-post-5

ہر سال خواندگی کے عالمی دن کا کوئی نہ کوئی عنوان مقرر کیا جاتا ہے اور اس سال اس دن کا عنوان ’’ماضی کے تناظر میں مستقبل کا عکس‘‘ رکھا گیا ہے۔

پاکستان میں تعلیم کا شعبہ انحطاط کا شکار ہے اور اسے بے غرض ماہرین کی توجہ اور خدمات کی اشد ضرورت ہے- ہمارا ملک خواندگی کی شرح کے لحاظ سے دنیا کے 120 ممالک میں 113 ویں نمبر پر ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے چالیس فیصد طلبہ اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل نہیں کررہے جو کہ تعلیم کے حصول میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ عالمی مقاصد برائے 2030 میں دنیا بھر کے لیڈروں نے طے کیا تھا کہ مذکورہ سال تک دنیا کے ہر بچے کے یے مفت تعلیم کا حصول یقینی بنایا جائے گا۔

l-post-3

پاکستان میں اس وقت پرائمری اسکول جانے کی عمر کے تقریباً 56 لاکھ طلبہ اسکو ل جانے سے قاصر ہیں ( یعنی دنیا بھر میں اسکول نہ جانے والوں بچوں کا 62 فیصد)جبکہ لوئرسیکنڈری اسکول جانے کی عمر کے تقریباً 55 لاکھ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں۔ دوسری جانب بلوغت کی عمر کو پہنچتے ایک کروڑ سے زائد نوجواب اپر سیکنڈری اسکول جانے سے محروم ہیں۔ مجموعی طور پر یہ تعداد دو کروڑ کے لگ بھگ بنتی ہے۔

ایک غیر سرکاری سروے کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ مدرسوں کی تعداد 12 ہزار ہے جبکہ گیر رجسٹرڈ مدرسوں کی تعداد حیرت انگیز طور پرا س سے کئی فیصد زیادہ ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق ان مدرسوں میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد 80 لاکھ سے زائد ہے۔

l-post-1

پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے اسکول جانے والے طلبہ میں صنفی تفریق بھی بہت زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق پاکستان کے دیہات میں رہائش پذیر 64 لڑکے اسکول جاتے ہیں جبکہ تصویر کا دوسری رخ انتہائی تشویش ناک ہے یعنی دیہاتی لڑکیوں کے اسکول جانے کا تناسب محض 14 فیصد ہے۔

l-post-2

سندھ حکومت صوبے بھر میں یو ایس ایڈ کے تعاون سے سرکاری اسکولوں کا معیارِ تعلیمم بڑھانےکے لیے کوشاں ہیں لیکن پرائمری کی سطح پر 26 سال سے زائد عرصے سے اپنی خدمات فراہم کرنے والی ایک ٹیچر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اے آروائی نیوز کو بتایا کہ حکومت اور یو ایس ایڈ کی جانب سے تعلیم کی بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے انتظامات مسئلے کے بجائے اس کے عوامل کا سدباب کرنے کی کوشش ہے جس کے کوئی حوصلہ افزا نتائج برآمد نہیں ہورہے۔

کراچی کے مضافاتی علاقے اورنگی ٹاؤن میں طویل عرصے سے بغیر پنکھے اور واش روم کی سہولت کے اپنی خدمات فراہم کرنے والی اس ٹیچر کا کہنا تھا کہ آج جو نصاب ہم بچوں کو پڑھا رہے ہیں لگ بھگ یہی نصاب (معمولی ردو بدل کے علاوہ) ان بچوں کی مائیں بھی ہم سے پڑھ کر گئی ہیں جبکہ زمانہ اس دوران کافی آگے جا چکا ہے اور اگر نصاب آج کے زمانے سے ہم آہنگ نہیں ہوگا تو ہم کس طرح بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرپائیں گے۔

l-post-4

سرکاری ریڈیو کے مطابق پنجاب کے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے عالمی یوم خواندگی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ تعلیم ایک زیور ہے جس کے بغیر انسان زندگی میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔شہباز شریف ن کا بھی کہنا تھا کہ حکومت نے ہر بچے کا سکول میں داخلہ یقینی بنانے کے لئے جامع پروگرام وضع کیا ہے تاکہ 2018 تک صوبے میں سوفیصد شرح خواندگی کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔

پاکستان میں تعلیم کا محکمہ دہشت گردی کےنشانے پر بھی رہا ہے شمالی علاقہ جات میں کئی اسکولوں اور کالجوں کو دھماکے سے اڑادیا گیا۔ اے پی ایس پشاور پر ہونے والے بربریت ناک حملے میں 134 معصوم طلبہ وطالبات اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جبکہ چار سدہ یونی ورسٹی پر بھی دہشت گردوں کے حملے میں کئی طلبہ شہید اور زخمی ہوئےتھے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ملک کی تعمیر و ترقی میں تعلیم کے کردا ر کی اہمیت سمجھتے ہوئے جنگی بنیادوں پر کام شروع کرے اور نصاب کو جدید دور سے ہم آہنگ کرکے تمام بچوں کے لیے کم ازکم میٹرک تک مفت تعلیم کاحصول لازمی بنائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں