The news is by your side.

Advertisement

عدم برداشت معاشروں میں انتشار کی بڑی وجہ

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج عالمی یوم برداشت منایا جا رہا ہے۔

سنہ 1995 سے یونیسکو کی جانب سے منظور کیے جانے والے اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر میں رواداری اور برداشت کو فروغ دینا ہے۔ یہ دن دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے غصے اور عدم برداشت سے معاشرے کو پہنچنے والے نقصانات سے آگاہی فراہم کرنے کا دن ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے مذہبی رواداری اور برداشت کو فروغ دیا جانا از حد ضروری ہے۔ ایک دوسرے کے عقائد اور مذاہب کا احترام کرنا آج کل کے دور کی اہم ضرورت بن گئی ہے۔

ماہرین کی تجویز ہے کہ اس کا آغاز بچپن سے ہی کیا جائے اور بچوں کو برداشت کرنے کی تعلیم دی جائے۔

بھارت میں عدم برداشت میں خطرناک حد تک اضافہ *

برداشت اور رواداری زندگی گزارنے کا بنیادی اصول ہے اور معمولی باتوں پر غصہ پینے سے لے کر زندگی کے مختلف مرحلوں میں اختلافات کو برداشت کرنے تک کی تربیت گھروں اور اسکولوں سے دی جائے تب ہی ایک روادار معاشرے کی تشکیل ممکن ہے۔

عمرانیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کل معاشرے کے 90 فیصد مسائل کی جڑ برداشت نہ کرنا اور عدم رواداری ہے۔ عدم برداشت ہی کی وجہ سے معاشرے میں انتشار، بدعنوانیت، معاشرتی استحصال اور لاقانونیت جیسے ناسور پنپ رہے ہیں۔

عدم برداشت انفرادی طور پر بھی لوگوں کو متاثر کرتا ہے اور لوگ بے چینی، جلد بازی، حسد، احساس کمتری اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ دنیا بھر میں مختلف نفسیاتی و ذہنی بیماریوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ بھی عدم برداشت ہے۔

دماغی امراض کے بارے میں 7 مفروضات اور ان کی حقیقت *

دوسری جانب حال ہی میں کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق کینیڈا دنیا کا روادار ترین ملک ہے جہاں مذہب سمیت تمام اختلافی پہلوؤں کو برداشت کیا جاتا ہے۔ عدم روادار ممالک میں ایک ملک بھارت بھی ہے جہاں اختلافات کو برداشت نہ کرتے ہوئے تشدد کا راستہ اختیار کرنے کا رجحان عروج پر ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں