The news is by your side.

Advertisement

عالمی اردو کانفرنس: ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام منعقدہ گیارہویں عالمی اُردو کانفرنس کے پہلے دن دوسرے اجلاس میں معروف شاعر جون ایلیا کی شخصیت کے حوالے سے گفتگو کی گئی،اس نشست کی نظامت کے فرائض معروف ٹی وی اینکر انیق احمد نے انجام دیئے۔

جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے کہاکہ دُنیا بھر میں جہاں جہاں اُردو بولی اور سمجھی جاتی ہے، وہاں جون ایلیا کو بہت اچھی طرح جانا اور پہچانا جاتا ہے دُنیا بھر میں شعر وادب میں دلچسپی رکھنے والے لوگ جون ایلیا کو بہت زیادہ پڑھ رہے ہیں ،جون ایلیا کے اشعار زندگی کے معاملات کے ساتھ ساتھ براہِ راست دل پر اثر کرنے والے ہیں، جون ایلیا چونکہ کئی زبانوں پر عبور رکھتے تھے لہٰذا انہوں نے جو تراجم کئے ہیں وہ ان کی شخصیت کو ایک عالمانہ شان کے ساتھ پیش کرتے ہیں، جون ایلیا نے درحقیقت گفتگو کو شاعری بنادیا تھا، انہوں نے کہاکہ ادب تو نام ہی سوال اٹھاتے رہنے کا ہے، جون ایلیا کا رویہ کچھ اس طرح تھا کہ جس میں طنز، انکار اور اذیت نظر آتی تھی وہ اپنی شاعری میں کئی سوال اُٹھاتے تھے۔

معروف ادیب شکیل عادل زادہ نے کہاکہ میں نے جون ایلیا کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور ان کے ساتھ ایک دو برس نہیں بلکہ سالوں گزارے ہیں وہ امروہا سے کراچی آئے تھے مگر کراچی میں رہنے کے باوجود ان کا دل میں امروہا ہی میں لگا رہتا تھا، ان کی شاعری کے ساتھ ساتھ ان کی نثر پر بھی توجہ دینی چاہئے کیونکہ انہوں نے نثر میں بھی بہت خوبصورت اور سوچنے والی باتیں تحریر کی ہیں مگر لوگ صرف ان کی شاعری کو پڑھ رہے ہیں، جون ایلیا ایک عالم اور فلسفی تھے وہ کئی زبانیں جانتے تھے، وہ ایک مفکر بھی تھے، ان کی نثر نگاری میں چند مختصر تحریریں تو ایسی ہیں جو ہم سب کو سوچنے پر مجبور کردیتی ہیں۔ ایک جگہ وہ لکھتے ہیں ”سمندر کے کنارے تجارت فروغ پاتی ہے اور دریا کے کنارے تہذیب“ ایک اور جگہ وہ لکھتے ہیں کہ ”جہالیت کو ہمارے سماج میں جتنی رعایت دی گئی ہے شاید اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی“،۔

شکیل عادل زادہ نے مزید کہاکہ جون ایلیا کے بارے میں ایک یہ بات بھی بتاتا چلوں کہ وہ ابتدائی عمر میں نعتیں لکھا کرتا تھے، وہ غزل کی آبرو تھے اور نظمیں بھی کمال کی تھیں۔

اقبال حیدر نے کہاکہ میری جون ایلیا سے ملاقات 1991ءمیں ہوئی تھی وہ ایک بھرپور ادبی اور فکری شخصیت تھے مگر میں سمجھتا ہوں کہ اولاً ان کی شخصیت فکری تھی اس کے بعد وہ اخلاقی شخصیت بھی تھے۔ انہوں نے کہاکہ وہ بہت جلدی خفا ہوجایا کرتے تھے مگر اس سے کہیں زیادہ جلدی مان بھی جایا کرتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میر تقی میر کے اسلوب کا نمائندہ شاعر جون ایلیا ہے۔ جون ایلیا تک پہنچے اور انہیں سمجھنے کے لئے کھلے ذہن کی ضرورت ہے، جون ایلیا نے جن لوگوں کی تربیت کی ان پر جون ایلیا کا بڑا احسان ہے، جون ایلیا انسانی رویوں کے بہت بڑے آدمی تھے۔

شاہد رسام نے کہاکہ یہ ہماری بدقسمتی ہے ہم جون ایلیا کی سنجیدہ زندگی اور سنجیدہ پہلوؤں کو نظر انداز کرتے ہیں ان کی باتوں کو تفنن کے طور پر لیتے ہیں، جون ایلیا ایک بڑے فلسفی اور عالم تھے ، انہوں نے کہاکہ میں نے بہت کم عمری میں بڑے لوگوں کے ساتھ نشست رکھی ہے اور ان کی جوتیاں سیدھی کی ہیں بڑے لوگوں کا کمال یہ ہے کہ وہ جو دکھتے ہیں وہ ہوتے نہیں اور وہ جو ہوتے ہیں وہ دکھتے نہیں، انہوں نے کہاکہ جون ایلیا سنجیدہ شخصیت کے مالک تھے ان کی ذات کے کئی رنگ ہیں جون ایلیا کا کینوس بہت وسیع ہے۔

عباس نقوی نے کہاکہ جون ایلیا بہت اچھے پرفارمر تھے ان کو سب پتہ ہوتا تھا کہ وہ کیا کررہے ہیں وہ دانستہ بے نیازی برتنے والے اور بہت بڑے دل کے مالک تھے۔ انیق احمد نے کہاکہ جو شخص جون ایلیا کی خدمت کرتا تھا وہ جون ایلیا کے نزدیک دنیا کا سب سے اہم آدمی تھا لہٰذا خدمت کرنے والا اس بات پر خوش ہوتا تھا کہ وہ دُنیا کا اہم ترین شخص بن گیا انہوں نے کہاکہ جس سال جون ایلیا کا انتقال ہوا اسی سال میرے والد کا بھی انتقال ہوا لہٰذا جون ایلیا کے انتقال کے بعد میں نے محسوس کیا کہ میرے ایک سال میں دو مرتبہ یتیم ہوگیا ہوں۔

اس موقع پر یوسف بشیر قریشی نے جون ایلیا کے اشعار کو خوبصورت انداز میں پڑھا اور سامعین سے داد وصول کی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں