دنیا کے بیشتر ممالک میں انٹرنیٹ کی سروسز بار بار سست ہونے کے ساتھ ساتھ بند ہونیکی شکایت سامنے آئی ہیں، اس کی اہم وجہ آشکار ہوگئی۔
گزشتہ دنوں ایمیزون کی کلاؤڈ سروس ایمیزون ویب سروسز (اے ڈبلیو ایس) اچانک کئی گھنٹوں کے لیے بند ہوگئی تھی، دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں انٹرنیٹ کی سروسز میں خلل آنے کے بعد ہزاروں ویب سائٹس اور ایپس بند ہوئی تھیں اور صارفین کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
پاکستان میں بھی مختلف وجوہات کی بنا پر کئی علاقوں میں انٹرنیٹ کے سست ہونے کی شکایت سامنے آئی تھی، دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی خرابی نے بینکنگ سروسز، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ایئرلائن بکنگ سائٹس اور آن لائن شاپنگ سسٹمز کو بھی ازحد متاثر کیا تھا۔
آئی ٹی اور ٹیکنالوجی ایکسپرٹ کا ماننا ہے کہ انٹرنیٹ کی اس طرح بندش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انٹرنیٹ کا ڈھانچہ بظاہر مضبوط نظر آنے کے باوجود بہت نازک ہے، معمولی تکنیکی خرابی بھی عالمی سطح پر لاکھوں انٹرنیٹ صارفین کو متاثر کرنے کا سبب بنتی ہے۔
ایمیزون کی کلاؤڈ سروس میں آنے والی خرابی کا تعلق ڈی این ایس سسٹم سے تھا، جو انٹرنیٹ کے لیے ایک ”ٹیلی فون ڈائریکٹری“ کی طرح کام کرتا ہے۔
ڈی این ایس یوزر فرینڈلی ویب ایڈریسز جیسے ” AMAZON.COM” کو ڈیجیٹل آئی پی ایڈریسز میں تبدیل کرتا ہے تاکہ دیگر سسٹمز اس تک رسائی حاصل کر سکیں۔
سائبر سیکیورٹی ماہر مائیک چیپل کے مطابق ”ایمیزون کے پاس تمام ڈیٹا محفوظ رہا مگر مسئلہ یہ تھا کہ کوئی بھی اسے تلاش نہیں کر پا رہا تھا۔ یوں سمجھیں جیسے انٹرنیٹ کی عارضی طور پر یادداشت چلی ہوگئی ہو۔“
چیف ڈیجیٹل آفیسر سائبر سیکیورٹی فرم ” NYMVPN” روب جارڈن نے بتایا کہ اسے سائبر حملہ نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ ایک تکنیکی خرابی تھی جو غالباً ایمیزون کے کسی بڑے ڈیٹا سینٹر میں پیش آئی اور اس کی وجہ سے یہ سب ہوا۔
روب جارڈن کا کہنا ہے کہ جب ایک ہی کلاؤڈ ریجن پر بہت زیادہ ویب سروسز انحصار کرتی ہیں تو کسی ایک معمولی خرابی کا اثر پوری دنیا پر پڑ سکتا ہے۔
ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ کو اصل میں غیرمرکزی نظام کے طور پر تیار کیا گیا تھا تاکہ کوئی ایک حصہ بند ہوتو پوری دنیا متاثر نہ ہو سکے۔
تاہم آج کل زیادہ تر ڈیجیٹل دنیا چند بڑی کلاؤڈ کمپنیوں جیسے ایمیزون، گوگل اور مائیکروسافٹ پر انحصار کرتی ہے، جس سے خطرہ بڑھ گیا ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈی این ایس میں خرابی کے باعث ہزاروں کمپنیوں کے ڈیٹا بیس ایمیزون کے سرورز سے منقطع ہوئے اور ایپس اپنے ہی ڈیٹا سے ”کٹ“ گئیں جس سے کمپنیوں اور انفرادی صارفین کو اپنے جاب نبھانے میں مشکلات پیش آئیں۔
’انٹرنیٹ سست کر کے 5 ارب ڈالر آئی ٹی ایکسپورٹ کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا‘
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


