site
stats
سائنس اور ٹیکنالوجی

سنہ 2017 میں بڑے سائبر حملے کا خطرہ

واشنگٹن: امریکا کی سیکیورٹی انٹیلی جنس کمپنی کا دعویٰ ہے کہ سنہ 2017 میں پوری دنیا میں انٹرنیٹ بند ہوسکتا ہے جس کے بعد پورے 24 گھنٹے کے لیے دنیا کے مختلف حصوں کا رابطہ ایک دوسرے سے منقطع ہوجائے گا۔

انٹیلی جنس کمپنی لوگرتھم کے نائب صدر جیمز کارڈر کا کہنا ہے کہ یہ انٹرنیٹ میں معمولی تعطل یا خرابی جیسا نہیں ہوگا۔ یہ بہت بڑے پیمانے پر سائبر حملے جیسا ہوگا۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ سنہ 2017 میں ہمیں کبھی بھی کسی بھی دن اس صورتحال کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر انٹرنیٹ بند ہوگیا تو اس سے معاشی مارکیٹوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

net-2

ادارے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے اس دعوے کی بنیاد وہ ثبوت ہیں جو انہیں 2016 میں ملے کہ سائبر جرائم پیشہ افراد اور گروہ ایسے میزائلوں کی ٹیسٹنگ کر رہے ہیں جو سمندر میں انٹرنیٹ کی کیبل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال متعدد بار ایسا ہوا کہ انٹرنیٹ کی مختلف سائٹس کچھ دیر کے لیے بند ہوگئیں تاہم 2017 کا متوقع سائبر حملہ بہت بڑے پیمانے پر پورے 24 گھنٹے کے لیے ہوگا۔

واضح رہے کہ رواں سال ہیکرز کے حملوں کے بعد نہ صرف سماجی رابطوں کی کئی سائٹس بند ہوگئی تھیں بلکہ یاہو کے کروڑوں صارفین کے اکاؤنٹس بھی ہیک کرلیے گئے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top