اردو مستقبل کی زبان ہے، مگر افسوس، یہ خبر ہماری حکومتوں تک نہیں پہنچی: محمد حمید شاہد
The news is by your side.

Advertisement

اردو مستقبل کی زبان ہے، مگر افسوس، یہ خبر ہماری حکومتوں تک نہیں پہنچی: محمد حمید شاہد

ادب گھاٹے کا سودا ہے مگر اس کا وقار اور اس کا سواد، اسی میں ہے

گو ادب کو فی زمانہ گھاٹے کا سودا اور کتاب کو بے وقعت گردانا جاتا ہے، البتہ بے قیمتی اور گرانی کے اس زمانے میں‌ بھی میدان ادب میں چند ایسی دل پذیر شخصیات سرگرم ہیں، جو ممتاز فرانسیسی ادیب والٹیر کے کردار “کاندید” کی طرح بلاچون و چرا کام میں‌ مصروف رہتی ہیں کہ ان کے نزدیک حالات کو قابل برداشت بنانے کا یہی اکلوتا طریقہ ہے.

ایسا ہی ایک نام محمد حمید شاہد کا ہے. ان کا شمار پاکستان کے نمایاں فکشن نگار اور ناقدین میں‌ ہوتا ہے. 23 مارچ 1957 کو پنڈی میں‌ پیدا ہونے والے اس تخلیق کار نے بینکاری کا شعبہ اپنایا۔ ان کی متعدد کتب شایع ہوئیں، جنھیں ناقدین اور قارئین نے یکساں سراہا. 23 مارچ 2017 کو انھیں تمغہ امتیاز سے نوازا گیا.

محمد حمید شاہد کے نزدیک ادب ہمیشہ احساس کی سطح سے معاملہ کرتا ہے، فکریا ت سے کم کم، بلکہ صرف وہاں، جہاں مجموعی طور پر انسانیت کے حق میں اُسے برتا جاسکتا ہو۔ یہی سبب ہے کہ ادب ہمیشہ طاقت ور کا ہتھیار بننے سے مجتنب رہا ہے۔ یہ بہ جا کہ کہانی ہو یا شعر وہ فرد کے جذبات کی تہذیب اور تشکیل میں یقینی کام کرتا ہے ۔ ادب اگرمختلف علاقوں، لسانی و نسلی گروہوں اور مختلف نظریات اور مذاہب سے متعلق لوگوں میں یکساں طور پر قابل قبول ہو جاتا ہے، تو اس کا سبب یہ ہے کہ یہ دعوے کی زمین سے بنیادیں نہیں اٹھاتا، احساس کی سطح سے معاملہ کرتا ہے.

البتہ قوت کے مراکز نے ادب اور ادیب کو سماج کے حاشیے پردھکیل دیا ہے۔ ادیب اس صورت حال سے مطمئن کیوں کر ہو سکتا ہے، وہ اس صورت حال سے تشکیل پانے والی رائے عامہ کا نمائندہ نہیں، اس اسٹیٹس کو کے خلاف جدوجہد کرنے والا ہے۔ ایسے میں اپنے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے والی قوتیں، ادیب کی اس رائے کو کیسے اہمیت دے سکتی ہیں جو اسٹیٹس کو پر ضرب لگانے والی ہے۔

اس باصلاحیت قلم کار سے ہونے والا مکالمہ پیش خدمت ہے:


سوال: کیا ادب پڑھنے والے کم ہوئے ہیں؟ کتاب کلچر متاثر ہوا ہے؟ موجودہ حالات میں ادب کیا گھاٹے کا سودا ہے؟

محمد حمید شاہد: ادب پڑھنے والے ہر دور میں کم رہے ہیں، اس دور میں بھی کم ہیں۔ ادب اور شاعری کی کتاب کبھی فرنٹ شیلف پر نہیں رہی، تاہم تناسب کے اعتبار سے دیکھیں تو یہ محض ایک تاثر ہے کہ ادب پڑھنے والے، پہلے کے مقابلے میں کم ہو گئے ہیں۔ اس کے باوجود کہ کاغذ پر چھپی ہوئی کتاب کو پیچھے دھکیل کر ای کتاب نے بھی اپنی جگہ بنالی ہے، مگر پھر بھی سروے کرکے دیکھ لیں، کتاب چھاپنے کے کاروبار میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ پہلے کے مقابلے تعداد میں زیادہ چھپ رہی ہے۔

یہ دیکھا گیا ہے کہ کچھ شہروں میں قدیم بک اسٹورز بند ہوئے ہیں، مگر اس کاروبار میں نئے لوگ بھی آئے ہیں اور کتاب کی پسپائی کے تاثر کو زائل کیا ہے۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارے ہاں سماجی پر سطح اس سے بڑی تبدیلی آگئی ہے، جو تبدیلی پہیے کی ایجاد سے آئی تھی، جس نے تبدیلی کے منظر نامے کو لائق توجہ بنائے رکھا ہے۔

وہ نسل جسے جنریشن ایکس کہا جاتا ہے، اس نے دنیا کی سب سے بڑی اور بہت تیز رفتار تبدیلی کو بہ چشم سر دیکھا ہے۔ہماری آنکھوں کے سامنے ٹیلی وژن آیا اور اس کی صورت بدل گئی، بلیک اینڈ وہایٹ ٹی غائب ہو گیا۔ وی سی آر آیا اور غائب ہوا۔ ٹیپ ریکارڈر اور آڈیو کیسٹ کا چلن ہوا اور انجام کو پہنچا۔

قوت کے مراکز نے ادب اور ادیب کو سماج کے حاشیے پردھکیل دیا ہے۔ ادیب اس صورت حال سے مطمئن کیوں کر ہو سکتا ہے، وہ اس صورت حال سے تشکیل پانے والی رائے عامہ کا نمائندہ نہیں، اس اسٹیٹس کو کے خلاف جدوجہد کرنے والا ہے۔

محمد حمید شاہد

ڈائل گھمانے والے ٹیلی فون سے سیل فون تک کا سفر، ڈرون ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، ایچ ڈی امیجز، فاصلے سمٹ گئے، آواز کے ساتھ تصویر سفر کرنے لگی، اخبارات اور جرائد انٹرنیٹ پر منتقل ہونا شروع ہو گئے، ای بینکنگ، ای آفس غرض اس ایکس جزیشن نے وہ کچھ بنتے اور مٹتے دیکھا ہے، جو نسل انسانی کی پوری تاریخ میں کسی نے نہ دیکھا تھا۔

یہ سب کچھ سرمائے کی بڑھوتری کا سبب بھی بنا تو سامراج کیسے چپکے سے بیٹھ سکتا تھا، اس کے ہاں بھی نئے نئے حیلے آئے، پہلے جہاد پھر دہشت، یہ جنگ کے روپ تھے. اسلحے کے ڈھیر لگ گئے تھے، اس کے استعمال کے مواقع بنائے گئے ۔ پہلے یہ اکنامکس کا اصول ہوا کرتا تھا کہ طلب کے مطابق رسد ہو گئی، مگر اب یہ اصول بدل گیا۔ مصنوعی طلب پیدا کرنے کے طریقے ایجاد ہوئے۔اشیاء کی عمریں گھٹ گئیں۔ ڈسپوز ایبل کلچر وجود میں آگیا، وغیرہ وغیرہ۔

اس سب کے مقابلے میں ادب تھا اور ادب ہے، اپنی دھج سے چلتا ہوا اور اپنے تخلیقی وقار سے آگے بڑھتا ہوا، کہہ لیجئے یہ گھاٹے کا سودا ہے مگر اس کا وقار اور اس کا سواد، اسی میں ہے۔

سوال: آج کے نوجوانوں کو کن شعرا اور ادیبوں کو پڑھنا چاہیے؟

محمد حمید شاہد: نوجوانوں کے پڑھنے کو بہت کچھ ہے۔ ہمارے ہاں شعر و ادب کی ایک پوری روایت موجود ہے۔ اتنا کچھ پڑھنے کو ہے کہ وہ اپنے اپنے مزاج کے مطابق اس میں سے انتخاب کر سکتے ہیں۔ میر و غالب سے لے کر اقبال تک اور راشد میرا جی، مجید امجد فیض و فراز سے لے کر آج کے شاعروں تک پھر فکشن کی ایک دنیا ہے پریم چند سے شروع ہو جائیں، بیدی، منٹو۔ عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر، غلام عباس، اشفاق احمد، انتظارحسین، منشایاد، اسد محمد خان سے آج کے فکشن لکھنے والوں تک، کہیں کسی کمی کا یا تشنگی کا احساس نہیں ہوگا۔

ادب ہی سے آج کے نوجوان کی مزاج سازی ممکن ہوگی۔ ہماری یونیورسٹیوں میں سوشل سائنسز کے ڈسپلنز کچھ عرصے سے نظرانداز ہو رہے ہیں، ادھر توجہ دینا ہوگی۔ اردو زبان و ادب کی طرف یونیورسٹیوں کو آنا ہوگا اور یہیں سے ہم جان سکیں گے کہ ہمارے نوجوان کو کیا پڑھنا چاہیے اور کس طرح پڑھنا چاہیے۔

سوال: اردو کا مستقبل آپ کیا دیکھ رہے ہیں، کیا رسم الخط کو خطرات لاحق ہیں؟

محمد حمید شاہد: میں اردو زبان کے مستقبل کے حوالے سے بہت پرُامید ہوں۔ اچھا اس امید کے معاملے میں میں اکیلا نہیں ہوں، اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ اب کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی زبان بھی بن چکی ہے۔ میں نے کاتبوں کو لیتھو پرنٹنگ کے لیے پیلے کاغذ پر کتابت کرتے دیکھا، پھر وہ بٹر پیپر پر لکھتے نظر آئے، کمپیوٹر آیا تو ان پیج کا چرچا ہوا، اب یونی کوڈ میں اردو لکھی جا رہی ہے تو ظاہر ہے اس باب میں خوب خوب سرمایہ کاری ہوئی ہے، تب ہی تو یہ منازل طے ہوئی ہیں۔

یاد رہے، سرمایہ دار کسی ایسے پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہیں کرتا جہاں اس کے سرمائے کے ڈوبنے کا اندیشہ ہو۔ سو یوں ہے کہ اردو اپنے رسم الخط کے ساتھ آپ کے کمپیوٹر سے لے کر آپ کے سیل فون تک فراہم کر دی گئی ہے کہ یہ زبان مستقبل کی زبان ہے اور اس پر لگایا جانے والا سرمایہ بھی محفوظ ہے۔

بس اگر خرابی ہے تو یہ ہے کہ یہ خبر ہماری حکومتوں تک نہیں پہنچی۔ اس باب میں حکمرانوں کی چال، جو پہلے بے ڈھنگی تھی، اب بھی بے ڈھنگی ہے۔ اسے اگر دفتری زبان بنالیا جاتا ہے، تو اس باب کے وہ خدشات بھی دور ہو جاتے ہیں، جن کا ذکر بالعموم ہوتا ہے، مگر یہاں تو عالم یہ ہے کہ اس ملک کی اعلی ترین عدالتیں اس باب میں فیصلہ سنا کر خود اپنے فیصلوں پر عمل کرنے کی بجائے انگریزی میں فیصلے لکھنا مناسب سمجھتی ہیں۔

خیر ایسا کب تک ہوگا؟ یہ روش انہیں بدلنا ہی ہو گی۔ اب رہا مسئلہ رسم الحظ کا تو صاحب اسے کیوں بدلیں؟ رسم الحظ بدلنے کا مطالبہ کرنے والوں کو جاننا چاہیے کہ اس حرکت سے اردو کا حلقہ وسیع ہو گا نہ اسے لکھنا سہل ہو جائے گا۔

میں سمجھتا ہوں کہ ایسا کرنے سے زبان سمجھنے والے سکٹر سمٹ جائیں گے، زبان کا معیار متاثر ہوگا اور بگڑی ہوئی زبان سے بھلا کون چمٹے رہنا پسند کرے گا؟ رسم الحظ کی تبدیلی زبان کے تحریری حسن اور تلفظ کو برباد کر کے رکھ دے گا۔ اس باب کی اگر کچھ مشکلات ہیں تو اس جانب توجہ دی جانی چاہیے ۔ انٹر نیٹ کی زبان بننے کے بعد بہت سے مسائل حل ہوگئے ہیں۔

انٹرنیٹ پر ہی ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمے پر کام ہو رہا ہے، یوں اس رسم الخط میں لکھنے اور اسے سمجھنے کے باب میں مشکلات سے نبرد آزما ہونے کی صورتیں نکل رہی ہیں، اس جانب اداروں کو کام کرنا چاہیے۔ یونیورسٹیوں اور علمی، ادبی اداروں کوعلمی ادبی کتب کا سرمایہ اردو یونی کوڈ میں انٹر نیٹ پر فراہم کرنا چاہیے۔ رسم الخط بدلنے کی بابت سوچنے کی بہ جائے ہمارے کرنے کا یہی کام ہے، اسی سے ہماری زبان، اسے بولنے والے اور اس سے محبت کرنے والے ترقی کریں گے۔

سوال: کیا ادیب کا کام فقط ادب تخلیق کرنا ہے یا ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر اسے اپنی ذمے داری کا دائرہ وسیع کرنا ہوگا؟

محمد حمید شاہد: جب جب مجھ سے یہ سوال کیا گیا، مجھے فیض احمد فیض کاوہ جملہ یاد آیا جو انہوں نے “شاعر کی قدر” مشمولہ “میزان” میں لکھا تھا۔ یہی کہ “آرٹ کی قطعی اور واحد قدر محض جمالیاتی قدر ہے”. فیض صاحب نے یہ بھی لکھا تھا کہ “شاعر خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو اور اس کی قدریں کچھ ہی کیوں نہ ہوں، اگر اس کا کلام جمالیاتی نقطہ نظر سے کامیاب ہے، تو ہمیں اس پر حرف گیری کا حق حاصل نہیں۔”

اب میں آپ کے سوال کی طرف آتا ہوں، “ذمے داری کا دائرہ وسیع کرنے” کے مطالبے کو پڑھتا ہوں، تو مجھے یوں لگتا ہے، جیسے یہ تاثر بن گیا ہے کہ ادیب سماج کا ذمہ دار فرد نہیں ہوتا، بس اسے لکھنے سے کام ہوتا ہے، نہیں صاحب ایسا نہیں ہے۔ ادیب کا لین دین سماج سے ہے اور اس باب میں وہ پوری طرح چوکس ہے اور یہیں سے وہ ادب کی جمالیات اخذ کرتا ہے، تاہم ادب محض سماج کا آئینہ نہیں ہے۔ یہ اسٹیٹس کو پر ضرب لگاتا ہے، مگر ایسا کسی طرف سے عائد کی گئی ذمہ داری کے سبب نہیں کرتا، ادب اپنی ترکیب میں ہوتا ہی ایسا ہے۔ وہ جو بیان نہیں کیا جاسکتا اسے بیانیے میں لے آنے والا ، موجود پر سوالات قائم کرنے والا اور آئندہ کی جانب احساس کی سمت موڑ دینے والا۔

ادب اس باب میں کوئی دعویٰ نہیں کرتا کہ وہ سماج سدھار نے کا علم لے کر نکلا ہے کہ تخلیقی عمل کا منصب اپنے کام سے غافل ہو کر یوں ہانکا لگانا، نعرہ مارنا یا جلوس نکالنا نہیں ہے۔ اچھا یہ بھی جاننا چاہیے کہ معاشرے کی سطح پر اٹھنے والی ہنگامی لہریں ادب کا فوری مسئلہ نہیں ہوتیں۔ یہ بہت گہرائی میں بن چکے اس مزاج سے عبارت ہے، جو زمین، زبان، روایات اور عقائد سب مل کرمرتب کرتے ہیں۔

ظاہر ہے یہ ایسا منصب ہے جو طاقت ور کی ڈکٹیٹ کرائی گئی تاریخ، سیاست دان کی چلائی ہوئی مہم، تنقید کی ترتیب دی گئی لسانی تراکیب اور میڈیا کے تشکیل دیے گئے ہنگامی بیانیہ، اخبار کے لیے لکھی گئی خبر اور کالم سے الگ دائرہ عمل ہے، اپنی تہذیب اور اپنے سماج سے بہت گہرائی میں اور بہت ذمہ داری سے جڑا ہوا۔

ادب محض سماج کا آئینہ نہیں ہے۔ یہ اسٹیٹس کو پر ضرب لگاتا ہے، مگر ایسا کسی طرف سے عائد کی گئی ذمہ داری کے سبب نہیں کرتا، ادب اپنی ترکیب میں ہوتا ہی ایسا ہے۔ وہ جو بیان نہیں کیا جاسکتا اسے بیانیے میں لے آنے والا ، موجود پر سوالات قائم کرنے والا اور آئندہ کی جانب احساس کی سمت موڑ دینے والا

محمد حمید شاہد

سوال: آیندہ انتخابات کو آپ کس طرح دیکھ رہے ہیں؟

محمد حمید شاہد: جب تک جمہوری عمل اپنی روح کے ساتھ بحال نہیں ہوتا، جمہوریت کے نام پر کٹھ پتلیوں کا یہ تماشایوں ہی چلتا رہے گا۔ اور یہ جمہوری عمل اس وقت صاف شفاف نہیں ہوسکتا، جب تک سیاست سے پریشر گروپس ختم نہیں ہو جاتے، جو ایسے ہی طاقت کا منبع سمجھے جانے والے اداروں کی ڈکٹیشن کو لے کر غیر جمہوری اقدامات کے حق میں فضا سازی کا فریضہ سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان بننے میں مذہب کا بہت اہم کردار ہے۔ تسلیم کہ تحریک پاکستان کے پیچھے دو قومی نظریہ کام کر رہا تھا مگر یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ تحریک جس کے پیچھے دوقومی نظر یہ کام کر رہا تھا، اس کا 14 اگست 1947 کو خوشگوار اور کامیاب انجام مسلمانوں کو ایک آزاد وطن پاکستان مل گیا تھا۔ اس کے بعد پاکستانی قوم کو اس فضا سے نکل جانا چاہیے تھا۔

اب پاکستانی ایک قوم اسی صورت میں بن سکتے ہیں کہ یہاں وطن ایک اہم عنصر کے طور پر کام کرے گا۔ یہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، ان ہی کی مرضی چلنی ہے کہ جمہوریت کا یہی تقاضا ہے، تو میں سمجھتا ہوں کہ یہاں ایسی جماعتوں کی کوئی گنجائش نہ تھی، جو مذہبی بنیادوں پر تعصبات کو ہوا دیتی ہیں، نہ ہی ایسی جماعتوں کی گنجائش ہے جو پاکستان کی مذہبی شناخت کو ہی ختم کرنا چاہتی ہیں۔

موجودہ صورت حال میں جو شدت پسندی اور عدم رواداری ہے اس کی وجہ ایسی جماعتیں ہیں اور ان کے عسکری ونگز ہیں، جو خود اپنی مرضی سے مذہب اور تصور پاکستان کی تشریح کرتے اور زور زبردستی لوگوں کے ذہنوں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستانی سیاست میں فکری انتشاراور آپا دھاپی کی یہی وجوہات ہیں، جن پر قابو پانے کے لیے مسئلے کی بنیادوں کو سمجھنا ہوگا۔ مجھے یہاں آصف فرخی کا ایک افسانہ یاد آتا ہے “بن کے رہےگا!” جی یہ وہ نعرہ تھا، جو تحریک پاکستان میں لگایا گیا تھا۔ بن کے رہے گا پاکستان، اور افسانے میں بتایا گیا ہے کہ ابھی تک ہم اس نعرے کی باز گشت سن رہے ہیں، پاکستان بن گیا مگر بن ہی نہیں چکتا۔ تو صاحب، اس فضا سے نکلیں حقیقی جمہوری عمل کا آغاز کرنا ہوگا۔

ہر ادارے کو اپنے دائرہ عمل کی طرف لوٹنا ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت لانا ہو گی۔ فرقے، علاقے اور زبان کے تعصب کی بنیاد پر قائم جماعتوں کو سیاسی عمل سے الگ کرنا ہوگا، تب ہی کوئی تبدیلی ممکن ہوگی اور سیاسی استحکام آئے گا۔ موجودہ صورت حال میں ایک مخلوط اور غیر مستحکم حکومت بنے گی، جو اپنے فیصلے آزادی سے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی.


ایلف شفق، عشق اور چالیس اصول 


دنیا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والے دس ناول


Comments

comments

یہ بھی پڑھیں