اپنی 80 سالہ فالج زدہ ماں کو پیٹھ پر لاد کر تین دریا عبور کیے، روہنگیا مسلمان rohingya
The news is by your side.

Advertisement

اپنی 80 سالہ فالج زدہ ماں کو پیٹھ پر لاد کر 3 دریا عبور کیے، روہنگیا مسلمان

ڈھاکہ : میانمار کی ریاست رخائن سے بھاگ کر بنگلہ دیشی کیپموں میں پہنچنے والے ایک شخص نے بتایا کہ اس نے 80 سالہ مفلوج ماں کو پیٹھ پر لاد کر تین دریا عبور اس دوران میلوں زمینی سفر پیدل طے کیا اور اگر برمی فوج کی نگاہ پڑ جاتی تو ہمیں اندھی گولیوں کا نشانہ بنادیا جاتا یا جلا دیا جاتا اور ہماری لاش تک نہیں ملتی۔

یہ بات بنگلہ دیش پہنچنے کے بعد الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے روہنگیا مسلمان محمد سوئے نے اپنی درد بھری کہانی سناتے ہوئے کہی جو کہ رخائن میں رہائش پذیر تھا، برمی فوج اور بدھسٹ افراد کے ظلم کی وجہ سے اسے بھی بھاگنا پڑا، یہ کہانی صرف محمد سوئے کی نہیں بل کہ ان تین لاکھ مسلمانوں کی ہے جو بنگلہ دیشی کیپموں میں پہنچ چکے ہیں۔

تیس سالہ روہنگیا مسلمان محمد سوئے نے بتایا کہ مسلمانوں کو برما میں بنیادی انسانی حقوق حاصل نہیں وہ دیگر روہنگیا مسلمانوں کی طرح کھیتی باڑی کیا کرتے تھے کیوں کہ وہاں مسلمانوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں اور نہ وہ سرکاری ملازمت حاصل کرسکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ روہنگیا مسلمانوں کو برمی تصور نہیں کیا جاتا اور ان کے ساتھ تیسرے درجے کے شہری کی طرح سلوک کیا جاتا ہے اسی لیے انہیں پولیس فوج اور دیگر اداروں میں ملازمتیں نہیں دی جاتیں انہیں صرف جنگلات میں کھیتی باڑی کرنے کی اجازت ہے۔

محمد سوئے کا کہنا تھا کہ اتنی انتھک محنت کے بعد ہم محض کھانے پینے کی ضروریات ہی پوری کر پاتے ہیں اور اس تیسرے درجے کے شہری کی طرح زندگی بسر کرنے اور تمام تر بنیادی سہولتوں سے محرومی کے باوجود ہمیں ہر وقت دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کب جان سے مار دیئے جائیں۔

انہوں نے برمی حکومت اور انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم کا تزکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ دو ہفتے قبل برمی فوج اور بدھ انتہا پسندوں نے ہمارے گاؤں ہر حملہ کردیا اور ہمارے گاؤں کو آگ لگادی اور براہ راست فائرنگ کرتے ہوئے سیکڑوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

میری بھائی کے چہرے پر گولی لگی جس کے باعث وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا اور میں اپنی فالج زدہ بوڑھی والدہ کو پیٹھ پر لاد کر بچے کھچے لوگوں کے ہمراہ اپنی جانیں بچانے کے لیے دوڑ لگا دی اور مسلسل دس دن تک پیدل چلنے اور تین دریا عبور کرنے کے بعد ہم بنگلہ دیش پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

یہاں تک پہنچنے میں ہمیں کئی مشکلات کا سامنا تھا لیکن اگر ہم رکتے یا واپسی کا سفر باندھتے تو یقینی اور درد ناک موت کا سامنا کرنا پڑتا بس اسی خوف نے ہمیں مسلسل بھاگتے رہنے پر اکسائے رکھا یہاں تک کہ ہم بنگلہ دیش کے بارڈر تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

محمد سوئے نے کہا کہ بنگلہ دیش پہنچنے کے بعد اللہ کا شکر ادا کیا اور یہاں میں خود کو بالکل محفوظ سمجھتا ہوں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں اپنے گھر واپس آگیا ہوں تاہم اب بھی یہ ملک میرے لیے نیا ہے اور کہیں جگہوں سے واقفیت نہیں ہو سکی ہے۔

انہوں نے پر امید لہجے میں کہا کہ میانمار میرا پہلا گھر ہے اور اگر وہاں امن قائم ہوجاتا ہے تو میری پہلی ترجیح اپنے گھر واپسی ہو گی کیوں کہ اصل مزہ اپنے گھر اور اپنے علاقے میں رہنے میں ہے وہاں میرے بچپن کی یادیں وابستہ ہے۔

محمد سوئے نے کہا کہ میانمار میں مسلمانوں کی حالت نہایت ابتر ہے تاہم اب برمی حکومت اور مذہبی انتہا پسندوں کی ظالمانہ کارروائی کی تصاویر سوشل میڈیا پر عام ہوگئی ہیں لیکن تاحال عالمی برادری کو جس طرح کا ایکشن لینا چاہیے تھا وہ نہیں لیا جا سکا۔

محمد سوئے پُر امید ہیں کہ عالمی برادری بالخصوص مسلم ممالک برمی حکومت کے مظالم کا نوٹس لیتے ہوئے اس ظلم کے شکار روہنگیا مسلمانوں کا تحفظ یقینی بنائیں گے اور برمی حکومت کو ان مظالم سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے گا تاکہ اس انسانی المیہ کا سدباب ہو سکے۔

اپنے پیغام میں روہنگیا مسلمان مہاجر محمد سوئے کا کہنا تھا کہ سب انسان ایک جیسے ہیں اور اس میں مذہب، ذات یا رنگ و نسل کی تفریق نہیں ہونی چاہیے جس طرح جسم بدھ مت ماننے والے رکھتے ہیں ویسا ہی ہم رکھتے اور اتنی ہی تکلیف ہمیں بھی ہوتی ہے جتنی اگر بدھ مت کے ماننے والوں کو ایزا پہنچانے پر انہین محسوس ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر بدھ مت کے پیروکار اپنے رسم و رواج کے مطابق پر امن اور آزاد زندگی بسر کر سکتے ہیں تو ایک روہنگیا مسلمان کو یہ آزادی کیوں حاصل نہیں ہے جب کہ ہم بھی انہی کی طرح کے انسان ہیں۔

خیال رہے کہ میانمار (برما) سے جان بچا کر بنگلا دیشی سرحد پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد 3 لاکھ سے زائد ہوگئی جو غذائی اور دواؤں کے بحران کا شکار ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں