ہجرت کرنے والے اسپیشل گاڑیوں میں لد پھند کر پاکستان پہنچے، مگر انہوں نے اپنی ریل گاڑیوں کے متوازی بیلیوں اور رتھوں میں لدے ہوئے قافلے بھی چلتے دیکھے ہوں گے۔ مشرقی پنجاب کے دور دراز علاقوں سے آنے والے ان دیہاتیوں میں ایسے گروہ بھی تھے جو ابھی قبائلی عہد کی فضا میں جی رہے تھے۔ ان میں وہ میو قبلے بھی تھے جو اپنے علاقے میں جاٹوں سے اس وضع سے لڑے تھے کہ صبح کو نقارۂ جنگ پہ چوب پڑی اور فریقین بلم اور بھالے لے کر نکل آئے۔ شام کو التوائے جنگ کا نقارہ بجا اور لڑنے والے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ ان لوگوں نے ابھی دستی بنانے نہیں سیکھے تھے اور نہ چھپ کر چھرے بازی کی وارداتیں کرتے تھے اور نہ اس علاقے میں برہنہ عورتوں کا کوئی جلوس نکلا۔
ہمیں اس ہنگام میں پہلی بار پتہ چلا کہ ہمارے معاشرہ میں انگریزی تعلیم سے آراستہ طبقوں کے پہلو بہ پہلو ابھی وہ قبیلے بھی موجود ہیں، جن کی قدیم اخلاقیات میں بال برابر فرق نہیں آیا ہے اور جو محبت اور نفرت کے برملا اظہار کے قائل ہیں۔
پس اس رستاخیز میں چھپی ہوئی چیزیں سامنے اور دبی ہوئی صورتیں سطح پر آ گئیں۔ یوں معلوم ہوا کہ اگلی پچھلی کئی صدیاں بیک وقت ہمارے وقت میں سانس لے رہی ہں۔ اس ادراک کے طفیل احساسات کے قدیم سانچے اور اظہار کی پرانی صورتیں جنہیں ہم متروک سمجھ بیٹھے تھے، پھر سے بامعنی اور کارآمد نظر آنے لگیں۔ نئی نظم یکایک ایسے فیل ہوئی جیسے پنجاب میں گاڑیوں کا سلسلہ فیل ہوا تھا۔ اس وقت سے اب تک نئی نظم کی حیثیت اسپیشل ٹرین کی سی چلی آتی ہے۔ دور کے بدلنے کے ساتھ ذریعۂ اظہار اکثر بدل جایا کرتا ہے۔ فسادات کے دنوں میں ہماری بستی کی چڑیوں نے یکایک صبح کو چہکنا بند کردیا تھا۔ کہتے ہیں کہ کوئی آفت آنے والی ہو تو چڑیاں پہلے سے سونگھ لیتی ہیں اور ان شاخوں سے ہجرت کر جاتی ہیں۔
غالب کا وجدان چڑیوں سے کم تیز نہیں تھا۔ غالب کا دور سن ستاون کی آفت کے ساتھ ختم ہوا۔ مگر اس نے غزل کہنی کئی برس پہلے سے چھوڑ رکھی تھی۔ پھر اس نے یاروں کو اردو میں خط لکھنے کا شغل پکڑا۔ سن ستاون میں یہی شغل اس کے لئے تخلیقی اظہار کا ذریعہ بن گیا۔ اس طور غالب اپنے زمانے کے بعد بھی تھوڑی مدت زندہ رہا۔ حالی اور آزاد نے، انگریزی شاعری کی جتنی معلومات ان تک پہنچی تھی، اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غزل کو تر ک کیا اور نظم کو اختیار کیا۔ یوں اکبرالہ آبادی بہت قدامت پسند بنتے تھے مگر انہیں یہ پتا چل گیا تھا کہ اونٹ پہاڑ کے نیچے آ گیا ہے اور ملک میں ریل گاڑی جاری ہو گئی ہے۔ اس لئے ذریعہ اظہار انہوں نے بھی نئی قسم کی نظم ہی کو بنایا اور ڈپٹی نذیر احمد نے داستان کی روایت سے کنارہ کر کے ناول لکھنے پر کمر باندھی۔
۱۹۴۷ء میں سواری کا سلسلہ پھر درہم برہم ہو گیا۔ ریل گاڑیاں بند ہو گئیں اور دیہاتی ہی نہیں بہت سے تعلیم یافتہ شہری بھی مشرقی پنجاب کی طرف سے بیلیوں اور رتھوں میں سوار ہوکر اور کھوکھرا پار سے اونٹوں پر لد کر پاکستان پہنچے اور لکھنے والے قدیم اصناف سخن میں طبع آزمائی کرنے لگے۔ پچھلے لکھنے والوں نے تو صرف پٹری بدلی تھی۔ مگر تقسیم کے آس پاس پیدا ہونے والوں نے آغاز ہی غزل سے کیا اور غزل کا معاملہ یہ تھا کہ اس ہنگام میں جب نئی نظم والے نئے سماجی تقاضوں اور نئی سائنسی حقیقتوں کا غل مچا رہے تھے، بچارے فراق گورکھپوری، میر و مصحفی کی باتیں کر رہے تھے اور غزل کو فانی اور اصغر کے چنگل سے نکال کر نئے رستے پر ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تقسیم کے بعد نئی شاعری کی ذمہ داری اسی غزل کے سر پڑی۔
تقسیم کے آس پاس پیدا ہونے والوں کی پہلی کھیپ سے ناصر کاظمی، جمیل الدین عالی، شہرت بخاری اور سلیم احمد برآمد ہوئے۔ انہوں نے آغاز غزل سے کیا۔ ابنِ انشا کے بات ذرا دیر میں سمجھ میں آئی۔ پہلے انہوں نے الف لیلہ کے زور پر نظم ہی میں قدیم و جدید کو ملانے کی کوشش کی مگر پھر ہار کر غزل پر آ رہے اور ابن انشاؔ جی بن گئے۔ پھر غزل کے سوا بھی اظہار کے قدیم سانچے آزمائے جانے لگے۔ جمیل الدین عالی غزل کی دنیا سے نکل کر دوہے تک گئے۔ پچھلوں میں سے مختار صدیقی اپنے ہم عصر قیوم نظر کو نئی ہیئتوں کے تجربوں میں مصروف چھوڑ کر "سی حرفی” کی طرف نکل گئے۔ انجم رومانی نے نظم آزاد کو یکسر ترک کرکے اس وضع سے غزل کہنی شروع کی، گویا یہی ان کا اسلوب بیان تھا۔ ن م راشد کہ جنہوں نے غزل اور حالیؔ کی ایک سانس میں مخالفت کی تھی، نظم آزاد کا عربی و عجمی قصص و حکایات سے جوڑا ملایا۔ یوں انہوں نے اپنے دوسرے مجموعہ میں غزلوں کا ضمیمہ شامل کرنے میں بھی مضائقہ نہیں جانا۔
(مایہ ناز فکشن نگار اور مقبول کالم نویس انتظار حسین کے مضمون سے اقتباسات)
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


