انتظار حسین کی تحریروں میں یادوں کا ایک حسین میلہ لگا نظر آتا ہے جو ہمیں متاثر بھی کرتا ہے، جذباتی بھی، ہنساتا بھی ہے اور رلاتا بھی ہے۔ ان کی تحریر کی خوب صورتی یہ بھی ہے کہ وہ ہمیں ماضی کو بازیافت کرنے اور یادوں میں کھو جانے کا موقع دیتی ہے۔ ان کا شمار پاکستان کے قدآور ادیبوں اور فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ پہلے پاکستانی تخلیق کار تھے جن کا نام عالمی بکر پرائز کی فہرست میں شامل کیا گیا۔
انتظار صاحب کو تہذیب و ثقافت سے جنون کی حد تک لگاؤ تھا اور اسی لیے وہ اپنی کہانیوں میں ایسے کئی رنگ گھولتے دکھائی دیتے ہیں۔ انھوں نے بلاشبہ اظہارِ خیال کے نئے زاویے تراشے اور اپنی تحریروں میں اس دل فریب اسلوب کو برتا جو فکر و فن کی بلندی کے ساتھ معیارِ ادب بھی ہے۔ انتظار حسین نے اپنے ناول، ناولٹ، افسانوں، داستانوں میں تہذیب و ثقافت، تاریخ و مذہب اور خاص طور پر گلی محلّوں کی یادوں اور ان سے ہجرت کرنے والوں سے استفادہ کیا ہے اور یہی ان کی شناخت ہے۔
ممتاز فکشن نگار نے زندگی کی 93 بہاریں دیکھیں اور 2 فروری 2016ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔ انتظار حسین کا نام پاکستان اور ہندوستان کی ادبی دنیا ہی میں نہیں عالمی ادب میں بھی پہچانا جاتا تھا۔ ان کے فکر و فن کے اعتراف میں انھیں پاکستان اور بھارت کے علاوہ مشرق وسطیٰ اور یورپ میں بھی علمی و ادبی تنظمیوں کی جانب سے اعزازات سے نوازا گیا تھا۔
انتظار حسین سنہ 1923ء میں متحدہ ہندوستان میں اتر پردیش کے علاقہ بلند شہر کے گاؤں ڈبائی میں پیدا ہوئے۔ ذہین تھے اور اسی لیے ابتدائی تعلیم اور میٹرک کرنے کے بعد انھیں مزید پڑھنے کے لیے میرٹھ بھیجا گیا جہاں سے اردو میں ایم اے کیا۔ اسی دوران انھوں نے لسانیات پر ایک کتاب کا مسودہ بھی تیار کرلیا تھا جسے بعد میں شایع کروایا۔ تقسیمِ ہند کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آگئے اور یہاں صحافت کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ اپنا قلمی سفر تو پہلے ہی شروع کرچکے تھے اور 1953ء میں پاکستان میں افسانوں کا پہلا مجموعہ ’گلی کوچے‘ کے عنوان سے شائع کروایا۔ بعد کے برسوں میں افسانوں کے آٹھ مجموعے، چار ناول اور آپ بیتی کی دو جلدیں جب کہ ایک ناولٹ بھی منظرِ عام پر آیا۔ وہ اپنے اسلوب کی وجہ سے پہچانے گئے اور پاکستان میں جب ان کے کالم روزناموں کی زینت بنے ہر خاص و عام میں مقبول بھی ہوگئے۔ اردو کے ساتھ انگریزی زبان میں ان کے ناول اور افسانوں کے چار مجموعے بھی شائع ہوئے۔
تاریخ، تہذیب و ثقافت اور ادبی موضوعات پر ان کے قلم کی نوک سے نکلنے والی تحریریں اور کالم بہت مقبول ہوئے اور کئی فکری مباحث کو جنم دیا۔ ان کے یہاں ناسٹیلجیا یا ماضی پرستی بہت ہے، جس کے بیان میں وہ اپنے علامتی اور استعاراتی اسلوب سے ایسا جادو بھر دیتے ہیں جس سے تحریر میں ایک حسن اور سوز پیدا ہو جاتا ہے۔ انتظار حسین کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ قرآن شریف، احادیث، صوفیائے کرام کے ملفوظات ہی نہیں، وہ ہندوستان کی قدیم تہذیبوں کی روایات، معاشرت اور ان کے رائج مذاہب اور عقائد پر بھی خوب بات کرتے تھے۔ رامائن اور بدھ مت وغیرہ پر ان کی گہری نظر تھی اور ساتھ ہی مغربی مفکرین کا مطالعہ بھی کیا تھا۔ ان کی وجہِ شہرت فکشن نگاری ہی نہیں ان کے انگریزی اور اردو زبان میں شایع ہونے والے کالم بھی ہیں جنھیں علم و ادب کا شغف رکھنے والوں اور سنجیدہ قارئین نے بے حد پسند کیا۔ ان کے یہ کالم بھی کتابی شکل میں شائع ہوئے۔
ممتاز نقّاد وارث علوی نے انتظار حسین سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا تھا: ’’انتظار حسین کے افسانوں میں اسلوب کا یہ جادو ملتا ہے، یعنی خوب صورت نظموں کی مانند ان کے افسانوں کے اسلوب کی سحر انگیزی پراسرار پہاڑ کے بلاوے کی طرح ہمیں اپنی طرف کھینچتی رہتی ہے۔ یہ کشش کہانی، کردار، واقعات یا دوسرے ارضی مواد کے سبب نہیں ہوتی جیسا کہ بیدی، منٹو یا موپساں کے افسانے میں ہوتا ہے۔ لیکن آپ انتظار حسین کی زبان و بیان کی جادو گری کا راز پانے کی کوشش کیجیے تو دیکھیں گے کہ ان کے اسلوب کی پوری سحر کاری ایک ایسے مواد کی زائیدہ ہے جو انسان کے ارضی، اخلاقی اور روحانی تجربات سے تشکیل پاتا ہے، اور یہ مواد اتنا ہی گاڑھا ہے جتنا کہ حقیقت پسند افسانے کا سماجی اور انسانی مواد اور اسی لیے اس کی پیش کش میں انتظار حسین گو اسطوری اور علامتی طریقِ کار اختیار کرتے ہیں، لیکن حقیقت پسند تکنیک کے ہتھکنڈوں یعنی واقعہ نگاری، کردار نگاری، جزئیات نگاری، مکالمے، تصویر کشی اور فضا بندی کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔ اسی سبب سے ان کے افسانے تجریدی افسانوں کی ذیل میں نہیں جاتے اور ان کا اسلوب تجریدی افسانوں کی مانند شاعری کے اسلوب سے قریب ہونے کی کوشش نہیں کرتا۔ انتظار حسین کا امتیازی وصف ہے کہ ان کے کسی جملے پر شعریت، غنایت یا شاعرانہ پن کا گمان تک نہیں ہوتا، بلکہ ایسا لگتا ہے کہ ان کی پوری کوشش غنایت سے گریز کی طرف ہے۔ ان کے باوجود ان کا اسلوب غنائی شاعری کے اسلوب کی مانند ہم پر وجد کی کیفیت طاری کرتا ہے۔ یہ نثر کی معراج ہے۔‘‘
فکشن نگار انتظار حسین کی تحریروں میں اکثر پرانے اور ایسے الفاظ پڑھنے کو ملتے تھے جو اب عام بول چال کا حصہ نہیں رہے اور انھیں ترک کر دیا گیا۔ ان کے اکثر کالموں میں کوئی حکایت، قدیم واقعہ اور داستان پیش کی جاتی تھی اور انتظار حسین اس کے زیر اثر اپنے اسلوب اور فکر کو نہایت دل پذیر انداز میں قاری کے سامنے رکھ دیتے۔
اس فکشن نگار کی تصانیف میں آخری آدمی، شہر افسوس، آگے سمندر ہے، بستی، چاند گہن، گلی کوچے، کچھوے، خالی پنجرہ، خیمے سے دور، دن اور داستان، علامتوں کا زوال، بوند بوند، شہرزاد کے نام، زمیں اور فلک، چراغوں کا دھواں، دلّی تھا جس کا نام، جستجو کیا ہے، قطرے میں دریا، جنم کہانیاں، قصہ کہانیاں، شکستہ ستون پر دھوپ، سعید کی پراسرار زندگی شامل ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


