The news is by your side.

Advertisement

خوش خطی سے تحریر تک قلم اور پین کا سفر

بچوں کے لیے ڈاکٹر نریش کی مفید اور معلوماتی تحریر

پیارے بچّو! جس پین سے آپ آج لکھتے ہیں، اس تک پہنچنے کے لیے قلم کو ایک طویل سفر طے کرنا پڑا ہے۔ پرانے زمانے میں مور کے پنکھ کو قلم بنا کر بھوج پتّوں پر لکھا جاتا تھا۔

بھوج ایک درخت ہے، جس کا تنا چمڑی جیسی کئی جلدوں سے بنتا ہے۔ اس تنے پر سے یہ پتلی پتلی جلدیں احتیاط کے ساتھ اتار لی جاتی تھیں اور ان کو ایک سائز کی پٹیوں میں کاٹ لیا جاتا تھا۔ ان پٹیوں پر تیل مل دیا جاتا تھا۔ جب یہ چکنی ہوجاتی تھیں تو ان کے اوپر مور کے پنکھ سے بنائے ہوئے قلم سے لکھا جاتا تھا۔

لکھنے کے بعد تحریر پر سیاہی مل دی جاتی تھی تو تحریر ابھر آتی تھی اور اس کو آسانی سے پڑھا جاسکتا تھا۔

پھر کاغذ ایجاد ہوا۔ گھاس پھوس کو کئی روز تک پانی میں بھگو کر گوندھ لیا جاتا تھا اور اس کی لوئی بنالی جاتی تھی۔ اس لوئی کو دیوار پر لیپ دیا جاتا تھا۔ جب یہ سوکھ جاتی تھی تو اس کو اتار کر ایک سائز میں کاٹ لیا جاتا تھا۔

اس پر لکھنے کے لیے مور پنکھ کی جگہ پر سر کنڈے کا قلم استعمال کیا جانے لگا۔ لکھنے کے لیے روشنائی ایجاد کی گئی۔ اخروٹ کے چھلکے کو جلا کر اس میں سرسوں کا تیل ملا دیا جاتا تھا اور سیاہ روشنائی تیار ہوجاتی تھی۔ اسی لیے آج تک لوگ روشنائی کو سیاہی کہتے ہیں۔

سر کنڈے کے قلم میں قط لگانا بھی ایک ہنر تھا۔ قلم کا قط صحیح ہو تو تحریر خوش خط ہوجاتی ہے۔

پھر نب ایجاد ہوگئے۔ قلم کو بار بار تراشنا اور اس میں قط لگانا پڑتا تھا۔ نب کو تراشنے یا اس میں قط لگانے کی ضرورت نہیں تھی۔ دونوں صورتوں میں بار بار دوات میں سے روشنائی لینا پڑتی تھی، جس کی مشقت سے بچنے کے لیے فاؤنٹین پین ایجاد کیا گیا ہے۔

پلاسٹک کے اس پین میں انجکشن کی طرح روشنائی بھرلی جاتی تھی اور یہ دیر تک چلتا تھا۔ اس کو بار بار دوات میں نہیں ڈبونا پڑتا تھا۔

لوگوں کو دوسرے تیسرے روز یا ہر ہفتے پین میں روشنائی بھرنا بھی مشقت کا کام ہورہا تھا، اس لیے بال پین ایجاد کیا گیا۔ اس میں روشنائی نہیں بھرنا پڑتی تھی۔ گاڑھی روشنائی کی ایک پتلی سی پائپ اس کی ٹپ سے جڑی ہوتی تھی۔ نب کی جگہ پر ٹپ نے آکر خوش خطی کا معاملہ ہی ختم کردیا۔

نب کئی قسم کے ہوا کرتے تھے۔ ان میں قط بنے ہوئے ہوتے تھے جو مختلف تحریروں کے لیے مختلف طرح کے ہوتے تھے۔ مثلاً انگریزی لکھنے کے لیے جی کا نب استعمال کیا جاتا تھا، اردو لکھنے کے لیے بیورلی کا نب استعمال کیا جاتا تھا۔

اس زمانے میں مدارس میں جب امتحان لیا جاتا تھا تو طلبا کو خوش خطی کے نمبر الگ سے دیے جاتے تھے۔ بال پین میں قط نہ ہونے کی وجہ سے بس لکھا جاتا ہے، تحریر کیسی ہی کیوں نہ ہو۔

قلم کی کوکھ میں سے خطّاطی کا جنم ہوا۔ رومن رسمُ الخط میں چوتھی پانچویں صدی عیسوی میں خطّاطی کے ذریعے بائیبل کو اور دسویں صدی میں قرآن دیدہ زیب بنانے کی غرض سے لفظوں، آیات و احادیث کو مختلف طرح کے قلموں سے لکھ کر نظر فریب بنانے کا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔ خطّاطی ایک ایسا ہنر ہے جس کو ہم قلم کا جوہر کہہ سکتے ہیں۔

ایک بات یاد رکھیے کہ انسان کا خط اس کی شخصیت کا غماز ہوتا ہے۔ آپ کا خط جتنا خوب صورت ہوگا، اتنی ہی نکھری ہوئی آپ کی شخصیت ہوگی۔ اس لیے اپنے خط پر توجہ دیجیے اور اسے بہتر بنانے کا عزم کیجیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں