لاہور: انمول پنکی کو مبینہ رشوت کے عوض اشتہاری قرار نہ دینے والے تمام تفتیشی افسران کو طلب کرلیا گیا اور ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق بین الصوبائی منشیات گروپ کی سرغنہ انمول عرف پنکی کو مبینہ طور پر کروڑوں روپے رشوت کے عوض بچانے اور اشتہاری قرار نہ دینے پر لاہور پولیس میں بھی بڑا ایکشن شروع ہو گیا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خصوصی حکم پر ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جبکہ ماضی میں ملزمہ کے کیسز پر مامور رہنے والے تمام تفتیشی افسران کو فوری طلب کر لیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور ذیشان رضا نے وزیر اعلیٰ کے احکامات کی روشنی میں ایس پی سی آر او کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
یہ کمیٹی لاہور شہر کے تمام تھانوں میں انمول پنکی کے خلاف موجود 12 سالہ ریکارڈ کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کرے گی۔
ابتدائی تفتیش اور پولیس ریکارڈ کے مطابق لاہور کے مختلف تھانوں میں ملزمہ کے خلاف سنگین مقدمات درج تھے لیکن اسے دانستہ طور پر قانون کی گرفت سے دور رکھا گیا، لاہور کے علاقوں کوٹ لکھپت، اقبال ٹاؤن، لیاقت آباد اور وحدت کالونی کے تھانوں میں انمول پنکی کے خلاف 4 مقدمات درج ہیں۔
ریکارڈ سے انکشاف ہوا ہے کہ ان مقدمات میں نامزد ہونے کے باوجود پولیس افسران نے ملی بھگت کر کے انمول پنکی کو کبھی گرفتار نہیں کیا جبکہ حیرت انگیز طور پر کسی ایک مقدمے میں بھی ملزمہ کا چالان تک عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اور مبینہ رشوت کے عوض اسے اشتہاری قرار دینے سے بھی گریز کیا گیا۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا کا کہنا ہے کہ انمول پنکی کو بچانے والے تمام پولیس افسران اور ان کی جانب سے لی جانے والی رشوت کی مکمل تفصیلات پر مبنی رپورٹ جلد وزیر اعلیٰ مریم نواز کو پیش کی جائے گی۔
انہوں نے واضح الفاظ میں وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ "فرائض میں غفلت، لاپرواہی اور منشیات فروشوں کی پشت پناہی کرنے والے پولیس افسران کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملزمہ کو بچانے میں ملوث پائے جانے والے اہلکاروں اور افسران کے خلاف نہ صرف محکمہ جاتی کارروائی ہوگی، بلکہ ان پر کرمنل دفعات کے تحت باقاعدہ مقدمات درج کر کے انہیں جیل بھیجا جائے گا۔”
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


