سپریم کورٹ کے حکم پر سندھ پولیس افسران کے خلاف تحقیقات شروع -
The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ کے حکم پر سندھ پولیس افسران کے خلاف تحقیقات شروع

کراچی: سپریم کورٹ کے حکم کے بعد وفاقی حکومت نے سابق آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی سمیت سندھ پولیس کے 10 افسران کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے سندھ پولیس کے 10 افسران کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کا حکم دے دیا۔

تحقیق کیے جانے والے افسران میں سابق آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی، سابق ڈی آئی جی ٹریننگ شہاب مظہر، سابق ایڈیشنل آئی جی سندھ اعتزاز گورایہ، سابق ایس پی غلام نبی کیریو، سابق ایڈیشنل آئی جی فنانس سید فدا حسین، ایس پی سید سلمان حسین، غلام اظفر مہیسر، سابق ایس پی خالد مصطفیٰ، عمر طفیل اور امجد شیخ شامل ہیں۔

مذکورہ افسران کے خلاف انکوائری تشکیل دے دی گئی ہے جبکہ ایف آئی اے سمیت دیگر اداروں کے اعلیٰ افسران کو انکوائری آفیسر بھی مقرر کردیا گیا ہے۔

چیف سیکریٹری سندھ نے رپورٹ میں اپنی پیش رفت سے سپریم کورٹ کو آگاہ کردیا۔

مقرر ہونے والے انکوائری افسران میں ڈی جی ایف آئی اے محمد املش، غلام حیدر جمالی اور شہاب مظہر کے خلاف انکوائری کریں گے۔ وزیر اعظم انسپکشن کمیشن کے سینئر ممبر سلیم بھٹی انکوائری کے معاون مقرر کردیے گئے۔

ایڈیشنل آئی جی کوئٹہ زبیر محمود، اعتزاز گورایہ، فدا حسین و دیگر کی انکوائری کریں گے۔ ڈی آئی جی فنانس سندھ عمران یعقوب منہاس کو انکوائری کا معاون مقرر کردیا گیا۔

سیکریٹری ماحولیاتی تبدیلی ابو عاکف کو بھی شہاب مظہر کے خلاف ایک اور انکوائری کے لیے افسر مقرر کردیا گیا۔ ڈی آئی جی مظفر علی شیخ دیگر تحقیقات کے لیے معاون افسر مقرر کردیے گئے ۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کرپٹ پولیس افسران کا کچا چٹھا سپریم کورٹ میں جمع کروایا تھا جس کے مطابق اعلیٰ پولیس افسران کرمنل ریکارڈ کے حامل، کرپشن اور غبن میں ملوث ہیں۔

 مزید پڑھیں: آئی جی سندھ کی اعلیٰ پولیس افسران کے خلاف رپورٹ

اے ڈی خواجہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سابق آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی اور سابق ایڈیشنل آئی جی اعتزاز احمد گواریہ محکمہ پولیس میں غیر قانونی بھرتیوں میں ملوث رہے۔

علاوہ ازیں ڈی ایس پی ریاض بھٹو پلاٹوں پر قبضے، سابق ڈی آئی جی سکھر کپیٹن فیروز شاہ ایرانی آئل کی اسمگلنگ کے غیر قانونی کاموں میں ملوث رہے جبکہ ڈی ایس پی فرحان علی بروہی پر خطرناک ملزمان سے رشوت لینے کا الزام ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں