The news is by your side.

Advertisement

شاہراہ فیصل پر فائرنگ سے ہلاک مقصود کا پولیس مقابلہ جعلی نکلا

کراچی: صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں تین ماہ قبل فائرنگ سے مقصود نامی نوجوان کی ہلاکت کو پولیس مقابلہ قرار دیا گیا تھا، ذرائع کے مطابق پولیس مقابلہ جعلی تھا جس کے بعد ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 3 ماہ قبل جنوری میں شہر قائد کے علاقے شاہراہ فیصل پر مقصود نامی نوجوان کو ڈاکو قرار دے کر پولیس مقابلے میں ہلاک کردیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جن ملزمان کے لیے مقابلہ کیا گیا ان ملزمان کے پاس اسلحہ تھا ہی نہیں۔

تفتیشی افسر نے واقعے کی جامع رپورٹ مرتب کر کے چالان جمع کروا دیا۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ پر واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ جعلی مقابلہ کرنے والے افسر کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کرلیا گیا۔

مزید پڑھیں: شاہراہ فیصل پولیس مقابلہ جعلی، وزیر داخلہ کی تصدیق

ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمہ غیر قانونی اسلحہ اور قتل کی دفعات کے تحت درج کیا گیا۔ تفتیشی رپورٹ کے مطابق شاہراہ فیصل جعلی مقابلے کا ماسٹر مائنڈ اے ایس آئی طارق نکلا۔ جو اسلحہ ملزمان سے برآمد دکھایا گیا وہ اے ایس آئی طارق کا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزمان کی گاڑی فٹ پاتھ سے ٹکرائی تو رکشے میں بیٹھ گئے، پولیس کی فائرنگ سے رکشہ الٹ گیا جس کے بعد مقصود کا محلے دار چلایا کہ یہ رکشے والا اور میں پسنجر ہوں۔

اے ایس آئی نے 30 بور کے پستول سے اندھا دھند فائرنگ کی۔ بغیر لائسنس تیس بور کا پستول اے ایس آئی طارق کا اپنا تھا۔ فائرنگ سے ملزم اور مقصود ہلاک جبکہ ایک شہری زخمی ہوا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اے ایس آئی طارق اور ٹیم جان چکی تھی کہ کسی کے پاس اسلحہ نہیں تھا۔ پولیس کو یہ بھی معلوم تھا رکشے میں 2 عام شہری بھی سوار تھے تاہم انہوں نے پھر بھی فائرنگ کی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں