site
stats
پاکستان

خود کش حملے کے لیے تیار تھا بیوی نے روک لیا،

شکار پور : سانحہ شکار پور کے سہولت کار شوکت علی نے انکشاف کیا ہے کہ عبدلاغنی نامی شخص نے مجھے 2013 میں خود کش حملے کے لیے تیار کیا تھا لیکن بیوی نے بچوں کا واسطہ دے کر خود کش حملے سے روک لیا اس کے بعد میں سہولت کاری کا کام کرتا رہا۔

اس بات کا اعتراف سانحہ شکارپور کے سہولت کار شوکت علی نے دوران تفتیش کیا جس کی رپورٹ اے آر وائی نیوز نے حاصل کرلی ہے۔

سہولت کار شوکت علی نے بتایا کہ جنوری میں عبد الحفیظ اپنے 6 ساتھیوں سمیت بعذریعہ بس کراچی آیا اور مجھ سے کہا کہ یہاں بڑا دھماکا کرنا ہے۔

ہم نے شکارپور امام بارگاہ کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا جس کے لیے بارود میں اور کبیر ایک دہشت گرد کریم بخش سے لے کر آئے تھے بعد ازاں میں 2 افراد کو بائی پاس لے کر آیا جہاں سے میرے ساتھی عبد الغنی نے دونوں افراد کو امام بارگاہ تک پہنچایا جس کے بعد مجھے گھر پر معلوم ہوا کہ دھماکا ہو گیا ہے۔

ملزم نے انکشاف کیا کہ اس کا دوست کبیر اور عبد الغنی طالبان کے لیے کام کیا کرتے تھے جنہوں نے خود کش دھماکوں کے لیے ٹریننگ دی اور مجھے تیار کیا لیکن بیوی نے بچوں کا واسطہ دے کر مجھے روک لیا جس کے بعد سے میں کالعدم تنظیم کے لیے سہولت کار کے طور پر کام کرنے لگا۔

ملزم نے اپنی گرفتاری سے متعلق تفتیشی ٹیم کو بتایا کہ کراچی میں دہشت گردی کے بڑے واقعے کی منصوبہ بندی کی تھی جس کے لیے دو افراد کو کچی آبادی کے ایک مکان میں ٹہرایا اور اسلحہ اور بارود فراہم کیا جس کے بعد ہم ہوٹل چلے گئے تا ہم وہاں پولیس آگئی جس پر علی شیر کے کہنے پر پولیس پر فائرنگ کر دی جوابی فائرنگ سے ہمارے اوسان خطا ہو گئے جس کے باعث میں اور عبد الغنی گرفتار ہو گئے۔

تفتیشی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار دہشت گرد کے شریک ساتھیوں میں سے 7 جیل میں ہیں جب کہ بارہ ابھی بھی مفرور ہیں جن کی تلاش جا رہی ہے۔

 

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top