The news is by your side.

Advertisement

غائب کرنے والے لباس کی تیاری کے لیے امریکا کا حیران کن منصوبہ

امریکی حکومت کے ایک ایسے سائنسی تحقیقی پروگرام کے بارے میں انکشاف ہوا ہے جس نے لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔

امریکی دفاعی حکام کے اس پروگرام کی تفصیلات کا انکشاف اہم دستاویزات سامنے آنے پر ہوا ہے، جن کا تعلق ایڈوانسڈ ایرو اسپیس تھریٹ آئیڈینٹیفکیشن پروگرام (اے اے ٹی آئی پی) سے ہے جو اب ناکارہ ہو چکا ہے۔

اس پروگرام کے تحت امریکی دفاعی حکام نے ٹیکس دہندگان کے لاکھوں ڈالر عجیب و غریب تجرباتی ٹیکنالوجیز پر خرچ کیے، جیسا کہ غائب کر دینے والا لباس، کشش ثقل مخالف آلات، ٹریورسیبل ورم ہولز، اور جوہری دھماکا خیز مواد کے ذریعے چاند میں سرنگ بنانا۔

یہ خفیہ دستاویز وائس ڈاٹ کام نے شائع کیے ہیں، جن کے مطابق ان تجربات پر اے اے ٹی آئی پی کے تحت 2007 اور 2012 کے درمیان لاکھوں ڈالرز خرچ کیے گئے۔

اس تحقیق کو آگے بڑھانے کے لیے محکمہ دفاع کے حکام نے ‘ہلکے وزنی مواد’ کی تلاش کے لیے چاند پر سرنگیں بنانے کے لیے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی تجاویز تیار کی تھیں، رپورٹس میں سے ایک میں ‘منفی ماس پروپلشن’ پر بحث کی گئی تھی، جس میں چاند کی کان کنی کے چونکا دینے والے منصوبے کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔

مصنفین لکھتے ہیں کہ اسٹیل سے ایک لاکھ گنا ہلکا لیکن اسٹیل جتنی طاقت والا مادہ ممکنہ طور پر چاند کے مرکز میں پایا جا سکتا ہے، اس مواد تک پہنچنے کے لیے انھوں نے چاند کی پرت کو پھاڑنے کے لیے تھرمو نیوکلیئر دھماکا خیز مواد کا استعمال کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔

واضح رہے کہ AATIP کا وجود اس وقت سامنے آیا تھا جب اس کے ڈائریکٹر لوئس ایلیزونڈو نے اڑن طشتریوں کی رپورٹس کے ساتھ منظر عام پر آنے سے پہلے 2017 میں استعفیٰ دے دیا تھا، اگرچہ اس پروگرام کو اب ختم کر دیا گیا ہے، لیکن امریکی حکام چاند کی کان کنی کے خیال سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہیں۔

ناسا کے منتظم جم برائیڈنسٹائن کے مطابق ناسا اب بھی چاند سے خلائی چٹانوں کی کان کنی کے منصوبوں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ‘سینکڑوں بلین ڈالر کے غیر استعمال شدہ وسائل’ ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں