اتوار, مئی 10, 2026
اشتہار

کیا بجٹ کے بعد مہنگے موبائل فونز سستے ہوجائیں گے؟

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ملک میں موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسوں کے بوجھ کو کم کرنے کی سفارش کر دی ہے، جس کے بعد آئندہ وفاقی بجٹ میں مہنگے فونز کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں مہنگے سمارٹ فونز کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں کے معاملے نے شدت اختیار کر لی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ملک میں موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسز اور ڈیوٹیز پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے صارفین کو فوری ریلیف دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

قائمہ کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں انکشاف ہوا کہ پاکستان میں مہنگے اسمارٹ فونز کی قیمتیں ٹیکسز کے بوجھ تلے دب کر عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔

کمیٹی کا بتایا گیا کہ 500 ڈالر سے زائد مالیت کے درآمدی فونز پر کم از کم 76 ہزار روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جبکہ 700 سے 750 ڈالر والے فونز پر ٹیکس کی شرح 55 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

اجلاس میں کہنا تھا کہ پریمیم فونز پر 18 فیصد جی ایس ٹی کے علاوہ تقریباً 11,500 روپے ودہولڈنگ ٹیکس بھی وصول کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ جہاں درآمدی فونز پر 55 فیصد تک ٹیکس ہے، وہاں مقامی سطح پر تیار ہونے والے فونز پر ٹیکس کی شرح محض 25 فیصد ہے، جس کا مقصد مقامی صنعت کو فروغ دینا ہے۔

چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، انہوں نے سیلز ٹیکس کے اوپر انکم ٹیکس وصول کرنے کی منطق پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے غیر منصفانہ قرار دیا۔

ایف بی آر حکام نے واضح کیا کہ اس وقت 18 فیصد جی ایس ٹی یا 11,500 روپے کے ودہولڈنگ ٹیکس میں فوری کمی کی گنجائش نہیں ہے، تاہم بجٹ سازی کے عمل کے دوران ان تمام ٹیکسوں کو معقول بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ حکومت اگلے بجٹ میں ایک ایسی موبائل فون پالیسی پیش کرے جس سے مارکیٹ میں موجود غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہو سکے اور عام صارفین کو ریلیف ملے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں