ہفتہ, مئی 16, 2026
اشتہار

اقبال بانو: سُر سنگیت کی ملکہ

اشتہار

حیرت انگیز

اقبال بانو نے جو بھی گایا وہ امر ہوگیا۔ وہ سُر اور ساز کی باریکیوں اور نزاکت ہی سے نہیں اردو زبان کی لطافت سے بھی خوب واقف تھیں۔ ان کا طرزِ‌ گائیکی سامعین کو سحر زدہ کر دیتا تھا۔ غزلیں اور خاص طور پر انقلابی ترانے یا مزاحمتی شاعری اقبال بانو کی آواز میں‌ آج بھی پاکستان ہی نہیں سرحد پار بھی ذوق و شوق سے سنی جاتی ہے۔

آج معروف گلوکارہ اقبال بانو کی برسی ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی یہ منفرد اور بے مثال گلوکارہ 21 اپریل 2009ء میں وفات پاگئی تھیں۔ پاکستان میں غزل گائیکی کے فن کو بامِ عروج پر پہنچانے والی اقبال بانو 28 دسمبر 1935ء میں‌ دلّی میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ بھی گلوکارہ تھیں اور اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ یہ فن اور گائیکی کا شوق ان کو ورثہ میں ملا تھا۔ اقبال بانو کی آواز میں ایک خاص کھنک تھی جو انھیں اپنے دور کے دیگر گلوکاروں میں ممتاز کرتی ہے۔ اقبال بانو نے گائیکی کی باقاعدہ تربیت لی۔ وہ دلّی کے ایک باکمال اور اپنے فن کے ماہر استاد چاند خان کی شاگرد تھیں۔ انھوں نے آل انڈیا ریڈیو سے اپنی پرفارمنس کا آغاز کیا۔ اس وقت اقبال بانو سترہ برس تھیں۔ وہ 1952ء میں ہجرت کر کے پاکستان کے شہر ملتان آبسی تھیں۔ انھوں نے یہاں اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور ملک گیر شہرت پائی۔ اپنے وقت کے مشہور موسیقاروں اور گلوکاروں سے داد سمیٹنے والی اقبال بانو کی آواز ریڈیو سے گونجا کرتی تھی اور جب ٹی وی نشریات کا آغاز ہوا تو ان کے مداحوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ مشہور شاعر فیض احمد فیض کی نظم ’ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘ اقبال بانو کی آواز میں ہر خاص و عام میں‌ مقبول ہوئی اور ایک نعرے کی صورت میں اس کی گونج پاکستان ہی نہیں بھارت میں‌ بھی سنائی دینے لگی۔ مشہور غزل ’داغ دل ہم کو یاد آنے لگے‘ پاکستان، سرحد پار اور اردو جاننے والے ہر شخص کے ساتھ گویا خوش بُو کی طرح سفر کرتی رہی۔ ’تُو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے‘ جیسا گیت اقبال بانو کی آواز میں‌ امر ہوگیا۔

دورِ آمریت میں فیض احمد فیض کی انقلابی نظمیں گانے پر اقبال بانو کو پابندی کا سامنا کرنا پڑا اور پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر ان کی آواز گونجنا بند ہوگئی۔ وہ نجی محافل میں‌ شرکت کرتیں تو ان سے فیض کی نظمیں فرمائش کر کے سنی جاتی تھیں۔ بعد میں اقبال بانو کو صدارتی تمغا برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں