تہران (13 جنوری 2026): ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے امریکا کو واضح پیغام دیا ہے کہ ایران اب پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 2025 میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والا تنازع مسلح افواج کیلیے ایک منفرد اور خاص تجربہ تھا۔
میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ اسرائیل مغربی ٹیکنالوجی اور حمایت سے لیس ہے لیکن اس کے باوجود ایران کے علاوہ کسی اور ریاست نے اس جیسی ریاست کے ساتھ اس پیمانے پر جنگ نہیں لڑی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ اور نیتن یاہو کی دھمکیاں، ایرانی آرمی چیف نے دشمن کو وارننگ دے دی
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ مسلط کردہ جنگ کے بعد گزشتہ چھ ماہ کے دوران کی گئی تیاریاں اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران کو دی جانے والی دھمکیوں کا جواب دینے کیلیے مکمل طور پر موزوں ہیں۔
ایران میں مہنگائی اور معاشی بحران کے خلاف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر رہے ہیں اور ایسے میں امریکا نے تہران کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے مظاہرین کو کچلنے کی کوشش کی تو فوجی کارروائی کر سکتے ہیں۔
اس پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے حکومت کے حق میں مظاہروں پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قوم مضبوط، طاقتور اور باخبر ہے۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اپنے فریبی اقدامات بند کردے۔
آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم کی عظیم ریلیوں نے دشمنوں کی سازشوں کو خاک میں ملادیا، سازشوں پر اندرونی ملک کروائے کے ایجنٹوں سے عمل کرایا جانا تھا، امریکا اپنے آلہ کاروں پر بھروسہ کرنا چھوڑ دے۔
ان کا کہنا تھا کہ غرور میں ڈوبا ایک شخص پوری دنیا کے فیصلے کر رہا ہے، اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ اقتدار کے عروج پر طاقتور ترین حکمرانوں کے ساتھ کیا ہوا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


