The news is by your side.

Advertisement

ایرانی عوام بچوں کی آن لائن فروخت پر مجبور، عرب میڈیا کا دعویٰ

تہران : ایرانی حکومت کی نقص پالیسی کے باعث ایرانی عام غربت اور افلاس کے چنگل میں پھنس گئی ہے، جس کے باعث لوگ مجبوراً اپنے بچوں کو آن لائن فروخت کررہے ہیں۔

عرب خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایران میں لوگ بھوک اور افلاس میں اس قدر گھر چکے ہیں کہ اپنے بچوں کا بوجھ بھی نہیں اٹھا پارہے، عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں بہت سے ایسے خاندان بھی ہیں جو اپنے بچوں کو سوشل میڈیا پر فروخت کررہے ہیں۔

عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی پولیس نے تین افراد پر مشتمل ایسے گروہ کو گرفتار کیا ہے جو بچوں کی آن لائن خرید و فروخت کا مکروہ دھندہ چلاتے ہیں۔

ملزمان نے پولیس کی تفتیش کے دوران دئیے گئے بیان میں کہا کہ والدین خود اپنے بچوں کو معمولی رقم کے بدلے کے بیچ رہے ہیں، پولیس نے ملزمان کی فراہم کردہ معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے دو بچے برآمد کرلیے جبکہ تیسرے کی تلاش جاری ہے۔

العربیہ نیوز نے دعویٰ کیا کہ امریکا کی جانب سے 2017 میں ایران کو انسانی اسمگلنگ کرنے والے ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر رکھا گیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکا نے ایران میں رونما ہونے والے انقلاب اسلامی کے بعد پابندیاں عائد کررکھی ہیں جس میں 2015 ایٹمی معاہدے پر نرمی کی گئی تھی تاہم ایک برس پر ٹرمپ انتظامیہ نے مزید سخت پابندیاں عائد کردی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں