اتوار, جون 14, 2026
اشتہار

ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود ایران کا قطر کے راس لفان توانائی کمپلیکس پر دوبارہ حملہ

اشتہار

حیرت انگیز

دوحہ (19 مارچ 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود ایران نے قطر کے راس لفان توانائی کمپلیکس پر دوبارہ حملہ کر دیا۔

قطر کی سرکاری توانائی کمپنی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آج صبح مرکزی مقام پر گیس تنصیبات کو راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا، جس سے آگ لگ گئی اور کافی زیادہ نقصان ہوا۔

گزشتہ رات بھی ایران نے راس لفان توانائی کمپلیکس پر حملہ کیا تھا جس کے بعد گیس پلانٹ پر آگ بھڑک اٹھی تھی۔ ایرانی میزائل حملے کے بعد ابوظبی کی گیس تنصیبات کو بند کر دیا گیا۔ ابوظبی میڈیا آفس کے مطابق تباہ کیے گئے میزائل کا ملبہ گرنے کی وجہ سے حبشان گیس تنصیب کو بند کیا گیا ہے۔

قطر کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ’’ریاستِ قطر راس لفان انڈسٹریل سٹی کو نشانہ بنانے والے ایران کے کھلے عام حملے کی بھرپور مذمت کرتی ہے، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور تنصیب کو نمایاں نقصان پہنچا۔‘‘

اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں

قطر کی وزارتِ داخلہ کے مطابق جائے وقوعہ پر لگنے والی آگ کو ابتدائی طور پر قابو میں کر لیا گیا ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ دنیا کی سب سے بڑی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) پیدا کرنے والی کمپنی قطر انرجی نے کہا ’’تمام عملے کا حساب کر لیا گیا ہے اور اس وقت کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔‘‘

ایران نے خلیجی خطے میں تیل اور گیس کی تنصیبات پر حملوں کی دھمکی دی تھی، جو اس کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر اسرائیل کے حملے کے جواب میں تھی۔ ایران کی جانب سے حملوں کی وارننگ قطر کے مسیعید پیٹروکیمیکل کمپلیکس، مسیعید ہولڈنگ کمپنی اور راس لفان ریفائنری، سعودی عرب کی سامرف ریفائنری اور الجبیل پیٹروکیمیکل کمپلیکس اور متحدہ عرب امارات کے الحصن گیس فیلڈ کے لیے تھی۔

حملے کے بعد قطر کی وزارتِ خارجہ نے ایران کے سفارت خانے کے فوجی اور سیکیورٹی اتاشیوں کو ان کے عملے سمیت ناپسندیدہ شخصیات قرار دے دیا، اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر قطر چھوڑ دیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں