تہران(26 جنوری 2026): ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی حملے کے خدشات کے باعث زیر زمین محفوظ پناہ گاہ میں منتقل ہو کر پناہ لے لی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے سینئر سیکیورٹی اور فوجی حکام کی جانب سے امریکی حملے کے بڑھتے ہوئے امکانات کے انتباہ کے بعد تہران میں ایک مضبوط زیر زمین پناہ گاہ میں منتقل ہو گئے ہیں جس میں متعدد سرنگوں کا نظام موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کے تیسرے بیٹے مسعود خامنہ ای نے اب سپریم لیڈر کی روزمرہ ذمہ داریوں کا انتظام سنبھال لیا ہے اور وہ ریجیم کی ایگزیکٹو شاخوں کے ساتھ مواصلات کا بنیادی ذریعہ بن گئے ہیں۔
دوسری جانب بھارت میں ایران کے جنرل قونصلر سعید رضا مصیب مطلق نے بھارتی ویب سائٹ ’این ڈی ٹی وی‘ سے گفتگو میں کہا کہ ایران کسی بھی غیر ملکی طاقت سے خوفزدہ نہیں ہے اور کچھ لوگ جان بوجھ کر جھوٹی افواہیں پھیلا رہے ہیں۔
سعید رضا نے کہا کہ یہ فطری بات ہے کہ سپریم لیڈر کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی اہلکار موجود ہوں گے، جیسا کہ دیگر ممالک میں ہوتا ہے، لیکن یہ سوچنا درست نہیں کہ وہ کسی بنکر میں چھپے ہیں۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ امریکی بحری جہاز ایران کی طرف روانہ ہو رہے ہیں، صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا کے بہت سے جہاز ایران کی طرف جا رہے ہیں، لیکن مجھے امید ہے کہ ہمیں ان کا استعمال نہ کرنا پڑے۔
اسی دن جمعہ کو ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا تھا کہ ایران کسی بھی حملے کو "ہمارے خلاف مکمل جنگ” سمجھے گا جبکہ منگل کو ایرانی اسٹوڈنٹس نیوز ایجنسی نے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیشن کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ آیت اللہ خامنہ ای پر کسی حملے کی صورت میں جہاد کا اعلان کیا جائے گا۔
اس سے قبل اتوار کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای پر امریکی حملہ "ایرانی قوم کے خلاف مکمل جنگ” کے مترادف ہو گا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


