تہران (31 جنوری 2026): ایران میں ایک زوردار دھماکا ہوا ہے جس میں پاسداران انقلاب کے بحری کمانڈر کو نشانہ بنائے جانے کی افواہیں زیرِ گردش ہیں۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران کی جنوبی بندرگاہ بندر عباس میں ایک دھماکا ہوا ہے۔
ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی وہ تمام رپورٹس مکمل طور پر غلط ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ دھماکے میں پاسداران انقلاب کے بحری کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
دھماکے کی وجوہات جاننے کیلیے تحقیقات شروع کر دی گئیں تاہم اس حوالے سے فی الحال مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
بندر عباس کی بندرگاہ آبنائے ہرمز پر واقع ہے جو ایران اور عمان کے درمیان ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ دنیا بھر میں سمندر کے ذریعے سپلائی ہونے والے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
دھماکے کی یہ اطلاع ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔ دونوں ممالک میں تناؤ اُس وقت بڑھا جب امریکا کے مطابق ایرانی حکام نے احتجاجی مظاہروں کے دوران شہریوں کو قتل کیا۔
واضح رہے کہ ملک گیر احتجاجی مظاہرے گزشتہ دسمبر میں معاشی مشکلات کے باعث شروع ہوئے تھے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


