ہفتہ, جون 13, 2026
اشتہار

ایران کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے امریکی سینیٹ کا بڑا قدم

اشتہار

حیرت انگیز

واشنگٹن (20 مئی 2026): امریکی سینیٹ نے ایران کی ناکہ بندی ختم کرنے کی قرارداد منظور کر لی، ناکہ بندی ختم کرنے سے متعلق قرارداد اب ایوان میں اسی ہفتے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

الجزیرہ کے مطابق امریکی سینیٹ نے ایک ایسی قرارداد کو آگے بڑھا دیا ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے سے روک سکتی ہے۔

منگل کے روز اس قرارداد کو آگے بڑھانے کے لیے ایک ابتدائی ووٹنگ ہوئی، جو 50 کے مقابلے میں 47 ووٹوں سے منظور کر لی گئی، چند ریپبلکن سینیٹرز نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے صدر کے خلاف اس غیر معمولی اقدام کی حمایت کی۔

اس ووٹنگ سے ظاہر ہوا کہ ریپبلکن پارٹی کے اندر ایک چھوٹا مگر بڑھتا ہوا گروپ اس جنگ کے بارے میں بے چینی محسوس کر رہا ہے، جو ایک نازک جنگ بندی کے باوجود ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی، اور وہ صدر کو چیلنج کرنے کے لیے تیار ہیں۔


ایران اور وینزویلا میں دیکھا کہ ہماری فوج مضبوط ہے، ڈونلڈ ٹرمپ


ڈیموکریٹک سینیٹ کے اقلیتی رہنما چَک شومر نے ووٹنگ سے پہلے کہا ’’یہ صدر ایک ایسے بچے کی طرح ہیں جو بھری ہوئی بندوق سے کھیل رہا ہو۔‘‘ انھوں نے مزید کہا ’’اگر کبھی ایران کے خلاف کارروائیوں سے امریکی فوج کو واپس بلانے کے لیے ہماری جنگی اختیارات کی قرارداد کی حمایت کا وقت تھا، تو وہ وقت اب ہے۔‘‘

اس نتیجے کو ان قانون سازوں کی کامیابی بھی قرار دیا جا رہا ہے جو یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ میں فوج بھیجنے کا اختیار صدر کے نہیں بلکہ کانگریس کے پاس ہونا چاہیے، جیسا کہ امریکی آئین میں درج ہے۔

تاہم، یہ صرف ایک ابتدائی ووٹنگ تھی، اور اس قرارداد کو نافذ ہونے کے لیے اب بھی کئی بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ منگل کی ووٹنگ میں تین ریپبلکن سینیٹر غیر حاضر تھے، اور اگر وہ جنگ کے حق میں اپنی موجودہ پوزیشن برقرار رکھتے ہیں تو ان کے ووٹ اس قرارداد کو ناکام بنانے کے لیے کافی ہوں گے۔

یہاں تک کہ اگر یہ قرارداد 100 رکنی سینیٹ سے منظور ہو بھی جاتی ہے، تب بھی اسے ریپبلکن اکثریت والے ایوانِ نمائندگان سے منظوری لینا ہوگی، اور صدر ٹرمپ کے متوقع ویٹو کو مسترد کرنے کے لیے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ صدر ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت اس سال سینیٹ میں اس نوعیت کی سات سابقہ قراردادوں کو روک چکی ہے۔ اسی طرح ایوانِ نمائندگان میں بھی جنگی اختیارات سے متعلق تین قراردادیں معمولی فرق سے مسترد کی جا چکی ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں