تہران(12 اپریل 2026): ایرانی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اعلان کیا ہے کہ اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر بحری جہاز کو ایران کو ٹول ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
روسی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے واضح کیا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنا مکمل کنٹرول اور مینجمنٹ قائم کرے گا۔
ابراہیم عزیزی نے امریکا کے حوالے سے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ ہم امریکیوں پر قطعی اعتماد نہیں کر سکتے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کو کسی بھی ممکنہ معاہدے کی ضرورت ایران سے کہیں زیادہ ہے۔
سربراہ ایرانی نیشنل سیکیورٹی کونسل کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکا ہماری شرائط تسلیم نہیں کرتا تو ایران اپنے آزادانہ راستے پر چلتا رہے گا۔ ان کا یہ بیان خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور سمندری تجارتی گزرگاہوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی پالیسی کا عکاس ہے۔
اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کے لیے ٹرانزٹ فیس کی تجویز والے بل میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ فیس ایران کی قومی کرنسی ‘ریال’ میں ادا کی جائے گی۔
دوسری جانب فرانسیسی وزیر دفاع کیتھرین واٹرین نے بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے صدر ایمانوئل میکرون جہاز رانی کی آزادی کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے ٹھوس حل کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے، واٹرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مسئلے پر فرانس ایک منصوبہ بندی کر رہا ہے جس میں ضرورت پڑنے پر تقریباً 20 ممالک بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کام کریں گے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


