جمعہ, مئی 8, 2026
اشتہار

پاکستان کے توسط سے امریکا سے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، ایران کی تصدیق

اشتہار

حیرت انگیز

تہران(15 اپریل 2026):  ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ اسلام آباد مذاکرات کے بعد سے یہ سلسلہ برقرار ہے اور قوی امکان ہے کہ مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے تسلسل کی میزبانی پاکستان ہی کرے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اہم پریس بریفنگ کے دوران انکشاف کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کے توسط سے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔

اسماعیل بقائی نے جوہری پروگرام پر ایرانی موقف دہراتے ہوئے کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا اور امریکا کا اس حوالے سے اصرار اس کی ناواقفی کی دلیل ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی بھی اس بات کی تصدیق کر چکی ہے کہ ایران ایٹم بم نہیں بنا رہا۔ جوہری صلاحیت کو توانائی کے لیے استعمال کرنا ایران کا قانونی حق ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ترجمان نے امریکی رویے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی مطالبات غیر معقول ہیں اور ایک امریکی اخبار میں ایرانی مذاکرات کاروں کو قتل کرنے کی دھمکی دینا عالمی برادری کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے امریکا کی جانب سے سمندری ناکہ بندی کو عالمی قوانین کے خلاف اور جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا۔

اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کا نگہبان ہے اور خطے میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے امریکی فوج کی موجودگی کو خطے میں بے امنی کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم یہ بدقسمتی ہے کہ کچھ ممالک نے اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دی۔

اقتصادی معاملات پر بات کرتے ہوئے ایرانی ترجمان نے کہا کہ ایران کے اثاثوں کو ضبط کرنا حقوق کی چوری ہے، ہم اپنی معیشت کو بہتر بنانا جانتے ہیں اور کسی کو اس پر فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے روس کے ساتھ تعلقات کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس جوہری معاملے میں ایران کی مدد کا اعلان کر چکا ہے۔ اسماعیل بقائی نے بتایا کہ بدھ کو پاکستانی وفد کے دورہ ایران کا قوی امکان ہے اور اس وقت صرف پاکستان ہی ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کا اصل پاسبان اور نگہبان ہے اور خطے کے معاملات میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پوپ لیو کی مبینہ توہین پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پوپ کی توہین کو کسی صورت بھلایا نہیں جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پوپ لیو نے کوئی غلط بات نہیں کی تھی، بلکہ انہوں نے صرف ایران کے خلاف جنگ کو غیر منصفانہ قرار دیا تھا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق پوپ لیو کی جانب سے حق پر مبنی موقف اختیار کرنے پر ان کی تضحیک کرنا قابل مذمت ہے اور ایران عالمی سطح پر اس طرح کے اقدامات کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کی پیشگی شرائط پر مذاکرات نہیں کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات شرطوں کے ساتھ ہوں تو وہ سفارت کاری نہیں بلکہ آمریت کہلاتی ہے۔

ترجمان نے زور دے کر کہا کہ ایران نے حالیہ مذاکرات صرف اور صرف اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان اہم مذاکرات میں ایرانی مرکزی بینک کے سربراہ بھی موجود تھے تاکہ معاشی پہلوؤں پر براہِ راست بات کی جا سکے۔

اسماعیل بقائی نے امریکا کی جانب سے ایرانی اثاثوں کی ضبطگی کو ‘حقوق کی چوری’ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ایران کی اولین ترجیح خطے میں استحکام ہے اور اس سلسلے میں جنگ بندی کی مدت میں مزید دو ہفتے کی توسیع کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں