تہران (20 جولائی 2026): بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے اتوار کو کہا ہے کہ وہ ایران کے ’دارخوین جوہری بجلی گھر‘ کے تعمیراتی مقام پر رات کے وقت ہونے والے مبینہ حملے کی اطلاعات کا جائزہ لے رہی ہے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ دارخوین جوہری بجلی گھر تعمیر کے ابتدائی مراحل میں تھا، آخری معائنے تک وہاں کوئی جوہری مواد موجود نہیں تھا اس لیے تابکاری کے کسی قسم کے خطرے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے اتوار کی علی الصبح دارخوین جوہری بجلی گھر کے زیرِ تعمیر مقام کو نشانہ بنایا۔ تنظیم کے مطابق امریکی فوج نے اتوار کی صبح سویرے کیے گئے حملے میں اس مقام پر ’متعدد پروجیکٹائلز‘ داغے۔
The IAEA is looking into reports of an overnight attack on the construction site of a planned nuclear power plant in Darkhovin, Iran. The facility is in the very early stages of construction and contained no nuclear material when last visited by the IAEA.
While the reported… pic.twitter.com/Tdi5QxWcCE
— IAEA – International Atomic Energy Agency ⚛️ (@iaeaorg) July 19, 2026
دارخوین جوہری بجلی گھر ایران کے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں زیرِ تعمیر ہے۔ ایران نے جوہری تنصب پر حملے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ایران کا تیل بردار 2 ٹینکروں کو دھماکے سے اڑانے کا دعویٰ
آئی اے ای اے نے کہا کہ اگرچہ اس مبینہ حملے سے تابکاری کے کسی خطرے کا امکان نہیں ہے، تاہم ادارے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے جوہری تنصیبات کے اطراف میں فوجی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپنی اپیل ایک بار پھر دہرائی ہے۔ ایجنسی نے مزید بتایا کہ اس نے ان عوامی اطلاعات کے حوالے سے ایران سے رابطہ کیا ہے اور مزید معلومات دستیاب ہوتے ہی فراہم کی جائیں گی۔


