ہفتہ, اپریل 11, 2026
اشتہار

ایران نے جنگ بندی اور مذاکرات کے دعوؤں کو بے معنی قرار دے دیا

اشتہار

حیرت انگیز

تہران: ایران نے جنگ بندی اور مذاکرات کے دعوؤں کو بے معنی قرار دے دیا ہے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ جب تک ایران کے خلاف جارحیت جاری ہے سیز فائر اور مذاکرات قبول نہیں، دشمن جب چاہے جنگ چھیڑ کر اور جب چاہے جنگ بندی کا اعلان نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم بات دشمن کو واضح پیغام دینا ہے، ایرانی افواج دشمن کو ایسا سبق سکھانے کے لیے پرعزم ہیں جسے وہ کبھی نہیں بھولے گا۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایک سال سے کم عرصے میں دوسری مرتبہ پر ایران پر جارحیت کی ہے۔

اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران پر حملہ ایسے وقت کیا گیا جب واشنگٹن بالواسطہ جوہری مذاکرات جاری تھے، حملہ امریکا اور اسرائیل کے جارحانہ عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ پڑھیں: جنگ کے پہلے 6 دن میں 11.3 بلین ڈالرز خرچ کیے گئے، پینٹاگون

واضح رہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں اربوں ڈالرز خرچ کیے جا رہے ہیں، پینٹاگون نے کہا تھا کہ جنگ کے پہلے 6 دن میں 11.3 بلین ڈالرز خرچ کیے گئے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فوجی حکام نے منگل کو بند کمرے میں دی گئی بریفنگ میں سینیٹرز کو جنگ میں خرچے کا تخمینہ فراہم کیا، اس تخمینے میں تنازعے سے منسلک کچھ دیگر اخراجات شامل نہیں ہیں، اور جنگ میں خرچے کا تخمینہ کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔

سینیٹر کرس کونز (ڈیموکریٹ، ڈیلاویئر) نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا تھا کہ ان کے خیال میں یہ رقم اس سے بھی زیادہ ہے، کیوں کہ موجودہ اندازے میں جنگ کے تمام پہلو شامل نہیں ہیں۔

 کونز نے کہا تھا کہ ’’مجھے توقع ہے کہ موجودہ مجموعی آپریشنل لاگت اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔ اگر آپ صرف استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی دوبارہ خریداری کی لاگت دیکھیں تو وہ پہلے ہی 10 ارب ڈالر سے کہیں زیادہ ہے۔‘‘

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں