The news is by your side.

Advertisement

کسی ملک کے خلاف جنگ نہیں چھیڑیں گے: حسن روحانی

تہران: امریکا سے شدید کشیدگی کے پیش نظر ایرانی صدر حسن روحانی نے واضح کیا ہے کہ کسی ملک کے خلاف جنگ نہیں چھیڑیں گے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کیے جارہے ہیں، جبکہ عمان میں آئل ٹینکرز پر حملے کی ذمے داری بھی ایران پر عائد کی گئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی ریاست کےخلاف جنگ نہیں چھیڑے گا۔

منگل کو سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر ہونیوالے خطاب میں ایرانی صدر حسن روحانی نے باہمی مشاورت کے ذریعے معاملے کے حل پر زور دیا۔

دوسری جانب یورپی یونین میں خارجہ پالیسی کی رابطہ کار فیڈریکا موگرینی نے کہا ہے کہ یمن، شام اور دیگر علاقوں میں ایران کی مداخلتیں غیر مثبت ہیں۔

موگرینی نے ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے پر یورپی یونین کی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت حالات کو پرسکون بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔

امریکا کا مشرقی وسطیٰ میں مزید فوجی اہلکار بھیجنے کا اعلان، چین کا انتباہ

موگرینی کا مزید کہنا تھا کہ ابھی تک ایران نے ہماری توقعات کے مطابق جوہری معاہدے کی پاسداری کی ہے، اس سلسلے میں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی آئندہ رپورٹ کا انتظار ہے۔

دوسری جانب امریکا نے مزید ایک ہزارفوجی مشرق وسطی بھیجنے کا اعلان کردیا ہے، قائم مقام امریکی وزیردفاع پیڑک شناہن کا کہنا ہے مزید فوجیوں کی تعیناتی کا فیصلہ ایرانی فوج کے جارحانہ رویے کے بعد کیا، ایران سے تصادم نہیں چاہتے، اضافی فوجیوں کی تعیناتی کا مقصد خطے میں موجود امریکی اہلکاروں اور مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

امریکی نائب وزیردفاع پیٹرک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سینٹرل کمانڈ کی درخواست پرعمل درآمد کرتے ہوئے مزید ایک ہزار فوجیوں کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ خطے میں فضائی، بری اور بحری خطرات سے نمٹنے میں مدد لی جاسکے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں