ہفتہ, اپریل 18, 2026
اشتہار

ایرانی ڈرونز نے امریکی و اتحادی دفاعی نظام کو ’’پنکچر‘‘ کر دیا ہے، این بی سی

اشتہار

حیرت انگیز

(15 مارچ 2026): ایران کے ڈرونز امریکی اور اتحادی فوجوں کے لیے درد سر بن گئے ہیں، امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کی جانب سے 30 ویڈیوز اور سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی ڈرون امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک نئی قسم کا چیلنج بن کر سامنے آ رہے ہیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی ڈرونز نے امریکی اور اتحادی فوجیوں کے دفاعی نظام کو ’’پنکچر‘‘ کر دیا ہے، سیٹلائٹ تصاویر اور ویڈیوز میں ایرانی ڈرونز کو ہدف تک پہنچتے دیکھا گیا۔ ایک ویڈیو کے مطابق دھماکے سے پہلے ایک بھنبھناہٹ کی آواز سنائی دی۔ ایک فضائی گاڑی بغیر بادلوں والے آسمان سے تیزی سے نیچے آئی اور کیمپ بوہرنگ میں اپنے ہدف کی طرف بڑھی، جو کہ کویت میں واقع ایک امریکی فوجی اڈہ ہے۔ ڈرون ایک رننگ ٹریک کے قریب آ کر گرا اور وہاں سے سیاہ دھوئیں کا شعلہ بلند ہوا۔

اڈے کے اندر سے ویڈیو بنانے والے ایک شخص نے کہا ’’اوہ…! اوہ میرے خدا، یہ تو بالکل یہیں گرا۔ وہ واقعی ہمارے قریب پہنچ رہے ہیں… لگتا ہے اب وہ ہماری عمارت کو نشانہ بنانے لگے ہیں۔‘‘ ویڈیو اسی مقام پر ختم ہو جاتی ہے جب کہ صحرائی اڈے میں دھواں پھیلتا ہوا نظر آتا ہے۔

یکم مارچ کو آن لائن شیئر کی گئی اس حملے کی ویڈیو، جو ممکنہ طور پر اس سے پہلے ریکارڈ کی گئی تھی، ان 30 سے زائد اوپن سورس ویڈیوز اور سیٹلائٹ تصاویر میں شامل ہے جن کی تصدیق این بی سی نیوز نے کی ہے۔ ان مواد میں 7 مختلف ممالک میں ایرانی ڈرون حملوں اور امریکا و اس کے اتحادیوں کی جانب سے انھیں روکنے کی کارروائیوں کو دکھایا گیا ہے۔

ان حملوں کے ممکنہ اہداف میں فوجی اڈے، ٹرانسپورٹ مراکز، توانائی کا بنیادی ڈھانچا اور سفارتی مراکز شامل ہیں۔ 26 میں سے 21 ویڈیوز میں یہ دکھائی دیتا ہے کہ ڈرون اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر شیئر کی گئی ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے آغاز سے ہی ان ڈرون حملوں کے خلاف اہم مقامات کا تحفظ ناکافی رہا ہے۔ جب کہ امریکا اور اسرائیل یہ کہتے ہوئے ایران پر بمباری کر رہے ہیں کہ ان کا مقصد ایران کی جوہری، بیلسٹک میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے، ایران اس کے جواب میں اپنے میزائلوں اور کم لاگت والے دھماکا خیز ڈرون استعمال کر رہا ہے۔

یہ ڈرون امریکا، اس کے اتحادیوں اور اس تنازع کے بیچ میں آنے والے دیگر ممالک کے لیے ایک نیا چیلنج بن گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کے مخالفین اس صورت حال پر اس کے ردعمل کو بغور دیکھ رہے ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق ان ہتھیاروں کی لچک ایران کو یہ موقع دے سکتی ہے کہ وہ دشمن کے وسائل پر دباؤ ڈال کر جنگ کو طویل کر دے، جو مالی مشکلات کا شکار ممالک کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی سمجھی جاتی ہے۔ ایران اس ٹیکنالوجی کا ابتدائی استعمال کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، اور اس نے 2022 میں روس کو بھی یہ ڈرون فروخت کیے تھے جب اس نے یوکرین پر بھرپور حملہ کیا تھا۔ اس ٹیکنالوجی نے جنگ کے معاشی پہلو کو بھی چیلنج کر دیا ہے۔ اگرچہ امریکا اب بھی فضائی برتری رکھتا ہے، لیکن ایرانی ڈرون مہم نے نشانہ بننے والے ممالک کو انھیں روکنے کے لیے مہنگے ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

این جی او ایئر وارز کے پروگرام ڈائریکٹر جو ڈائک نے کہا ’’یہ دراصل غیر متوازن جنگ (اسمیٹرک وارفیئر) کی ایک نمایاں مثال ہے۔‘‘ اگرچہ ان ڈرونز کو بھاری مشین گنوں، لڑاکا طیاروں اور جدید انٹرسیپٹرز سمیت مختلف ہتھیاروں سے مار گرایا جا سکتا ہے، لیکن بڑی تعداد میں آنے والے ڈرون فضائی دفاعی نظام کو مغلوب کر سکتے ہیں، اور ایک بھی ڈرون شدید تباہی پھیلانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

ایک ڈرون حملے میں پورٹ آف شعیبیہ نامی شہری بندرگاہ پر 6 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ این بی سی نیوز کی تصدیق شدہ ویڈیوز کے مطابق دیگر حملوں میں تیل کے بنیادی ڈھانچے اور لاجسٹکس مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ بعض ڈرون خلیجی ممالک میں امریکی قونصل خانوں اور سفارت خانوں سے بھی ٹکرا گئے جب کہ وہاں موجود لوگ حیرت سے یہ مناظر ریکارڈ کرتے رہے۔ عمان میں واقع ایک تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیب پر بھی دو مرتبہ حملہ ہوا، ایک بار گزشتہ ہفتے اور دوبارہ اسی ہفتے، جس سے اہم تنصیبات کی مسلسل کمزوری واضح ہوتی ہے۔

امریکا عام طور پر ان ہتھیاروں کے بارے میں معلومات جاری نہیں کرتا جنھیں وہ روکنے میں کامیاب ہوتا ہے یا جن کا سامنا کرتا ہے۔ تاہم متحدہ عرب امارات کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 10 مارچ تک اس ملک پر 1,475 بغیر پائلٹ فضائی گاڑیاں (UAVs) داغی گئیں، جن میں سے 1,385 کو روک لیا گیا۔

ہتھیاروں کی نگرانی کرنے والے منصوبے اوپن سورس میونیشن پورٹل کے مطابق ایران کی جانب سے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ڈرون شاہد (Shahed-136) ہے۔ اس ڈرون کے پروں کا پھیلاؤ تقریباً 11.5 فٹ ہے اور یہ تقریباً 1,200 میل تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ڈرون سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم کی مدد سے رہنمائی حاصل کرتا ہے اور تقریباً 110 پاؤنڈ وزنی وارہیڈ لے جا سکتا ہے۔ ان ڈرونز کو پہلے سے پروگرام کر دیا جاتا ہے تاکہ یہ کسی مخصوص ہدف تک پہنچ سکیں، اور انھیں چلانے کے لیے کسی پائلٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔

آن لائن ویڈیوز کے تجزیے سے این بی سی نیوز نے پایا کہ شاہد طرز کے ڈرون حملوں کی زیادہ تر کارروائیاں خلیج فارس کے ساحلی علاقوں کے ساتھ ساتھ ہوئیں۔ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ڈرون اپنے پہلے سے پروگرام کیے گئے راستے پر چلتے ہوئے عمان میں واقع تیل ذخیرہ کرنے والے ایک ٹینک تک پہنچتا ہے۔ یہ اسی تنصیب پر ہونے والا دوسرا حملہ تھا۔

ایک اور ویڈیو دبئی کے ساحل پر موجود ایک شخص نے ریکارڈ کی، جس میں ایک بھنبھناتا ہوا ڈرون خشکی کی طرف پرواز کرتا دکھائی دیتا ہے جب کہ ایک جنگی طیارہ اس کے پیچھے جاتا ہے اور کچھ ہی لمحوں بعد اسے گرانے کے لیے میزائل داغ دیتا ہے۔ تصدیق شدہ ویڈیوز سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ ڈرون آذربائیجان تک بھی پہنچ گئے اور وہاں ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا۔ ایران نے اس حملے کی ذمہ داری سے انکار کیا ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں