پیر, مارچ 16, 2026
اشتہار

اگر دنیا امن اور استحکام چاہتی ہے تو جارحیت کو نوازنا بند کرنا ہوگا، ایران

اشتہار

حیرت انگیز

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ خطے میں استحکام کیلئے یہ پہچاننا ہوگا کہ فلسطین کامسئلہ صرف سیاسی نہیں یہ ایک اسٹریٹیجک مسئلہ ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے دوحہ میں الجزیرہ فورم سے خطاب میں کہا کہ اگر دنیا امن اور استحکام چاہتی ہے تو جارحیت کو نوازنا بند کرنا ہوگا، دنیا کو دہرا معیار ختم کرنا ہوگا، ہمیں بیانات سے بڑھ کر مشترکہ قدم اٹھانا ہوگا، فلسطین کا مسئلہ صرف سیاسی نہیں یہ ایک اسٹریٹیجک مسئلہ ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں بیانات سے بڑھ کر ایک مشترکہ اقدام اٹھانا ہوگا، فلسطین مغربی ایشیا میں انصاف کا بنیادی سوال ہے، فلسطین مسئلہ عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے لیے کڑا امتحان ہے، دیکھنا ہوگا عالمی ادارے کمزوروں کو بچاتے ہیں یا طاقتوروں کو جواز دیتے ہیں۔

عباس عراقچی نے خطاب میں کہا کہ فلسطینی بحران غیر قانونی قبضے اور بنیادی حقوق سے محرومی کا نتیجہ تھا، اب بحران صرف قبضے تک محدود نہیں بلکہ اس سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے، غزہ میں جو ہو رہا ہے وہ صرف جنگ یا سیکیورٹی کارروائی نہیں، غزہ میں برابر فریقوں کے درمیان تنازع نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر تباہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں شہری زندگی کی دانستہ بڑے پیمانے پر تباہی ہورہی ہے، اسرائیلی مظالم نے انسانیت کے ضمیر کو زخم پہنچایا، عالم اسلام کا دل ٹوٹ گیا، مسلمانوں کے ساتھ ساتھ لاکھوں غیر مسلم بھی متاثر ہوئے، بھوک ہتھیار نہیں، اسپتال جنگ کے میدان نہیں، خاندانوں کا قتل دفاع نہیں، فلسطین آج محض المیہ نہیں بلکہ دنیا کے لیے ایک آئینہ ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ یہ آئینہ فلسطینیوں کی تکلیف کے ساتھ ساتھ عالمی اخلاقی ناکامی بھی دکھاتا ہے، جو لوگ اس تباہی کو روک سکتے تھے انہوں نے اسے جائز قرار دیا، فلسطین بڑے اور خطرناک منصوبے کا منظرنامہ ہے سیکیورٹی کے نام پر توسیع ہورہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ نے غزہ کی صورتحال کو نسل کشی قراردے دیا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں