The news is by your side.

Advertisement

ایرانی کردستان میں پاسدارن انقلاب اور مسلح افراد میں جھڑپ، 1 فوجی جاں بحق

تہران : ایران کے مغربی صوبہ کردستان میں منگل کے روز مسلح افراد اور پاسداران انقلاب کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ایک ایرانی فوجی ہلاک ہوگیا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق مسلح جھڑپ میں متعدد جنگجوﺅں کے مارے جانے کی بھی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ایران کے صوبہ کردستان میں کرد مسلح گروپوں اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں معمول کی بات ہے۔

ایران کے کرد ایرانی رجیم کے امتیازی سلوک کے خلاف اور صوبائی خود مختاری کے لیے جدو جہد کررہے ہیں۔ ایران میں کردوں کے علاوہ عرب اور بلوچ عوام بھی علیحدگی کی تحریکیں چلا رہے ہیں مگر ایران انہیں طاقت کے ذریعے کچلنے کی ظالمانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق مسلح عناصر انقلاب دشمن عناصر پرمشتمل تھے۔

انہوں نے کردستان میں کامیاران کے مقام پر پاسداران انقلاب کی ایک پارٹی پرفائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک ہوگیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ یہ جھڑپ ایک ایسےوقت میں ہوئی ہے جب دوسری جانب ایرانی رجیم نے زیرحراست کرد رہ نماﺅں کی سزائے موت پرعمل درآمد میں بھی اضافہ کردیا ہے۔ ایرانی جیلوںمیں 100 کرد رہ نما سزائےموت کے منتظر ہیں۔

یاد رہے کہ رواں برس فروری میں ایرانی انٹیلیجنس ملٹری نے کردستان میں شر انگیزی پھیلانے والے 13 مشکوک افراد کو گرفتار کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ گرفتار افراد کا تعلق اسلامک اسٹیٹ گروپ سے ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ایرانی کردستان میں موجود کچھ افراد نے دعویٰ 100 کرد باغی اس کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے ہیں، ستمبر 2018 میں ایران نے تین کرد جوانوں کو اسلامی ملک کے خلاف مسلح جد وجہد کرنے پر پھانسی دی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں