واشنگٹن (06 مئی 2026): امریکی میڈیا ادارے ایکسیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے ایران کو خفیہ پیغام میں آبنائے ہرمز آپریشن میں مداخلت نہ کرنے کی وارننگ دی تھی۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ سطح کے عہدے دار نے اتوار کے روز ایران کو امریکا کے اُس ہرمز آپریشن کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا، جس کا مقصد آبنائے سے جہازوں کو ’’رہنمائی‘‘ کے ساتھ گزارنا تھا، اور تہران کو خبردار کیا کہ وہ مداخلت نہ کرے۔
یہ خفیہ پیغام اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وائٹ ہاؤس ممکنہ کشیدگی کو کم کرنا چاہتا تھا۔ امریکی حکام نے بتایا کہ کشیدگی بڑھنے نہ دینے کے لیے آپریشن سے پہلے تہران کو آگاہ کیا گیا، لیکن وارننگ کے باوجود ایران نے امریکی بحری جہازوں، تجارتی جہازوں اور یو اے ای پر متعدد حملے کیے۔
منگل کے روز وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے ایرانی حملوں کو معمولی قرار دیا اور کہا کہ جنگ بندی برقرار ہے۔ اس کے باوجود کچھ امریکی اور اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ اگر سفارتی تعطل یو ہی جاری رہا تو صدر ٹرمپ اس ہفتے کے آخر میں جنگ دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔
ایران اب ایک نئی سپر پاور ہے، مشیر ڈاکٹر مخبر
واضح رہے کہ ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ سے متعلق وارننگ اتوار کو دی گئی تھی اور اسی دن ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ بھی کی تھی۔ ہیگستھ نے منگل کو کہا کہ امریکا ’’ظاہری اور خفیہ دونوں طریقوں سے ایران سے رابطے میں ہے تاکہ یہ دفاعی آپریشن دنیا کے فائدے کے لیے جاری رہ سکے۔‘‘
پیر کے روز آپریشن کے پہلے دن ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکی جنگی جہازوں اور خطے میں موجود تجارتی جہازوں کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات کے اہداف پر بھی حملے کیے۔ جنرل کین نے کہا کہ یہ حملے ’’اس سطح سے نیچے تھے جو بڑی جنگ دوبارہ شروع کرنے کا سبب بنیں۔‘‘
ہیگستھ نے ایرانی حملوں کے لیے خود ہی جواز بنا کر پیش کیا ’’فی الحال جنگ بندی برقرار ہے، امریکا کو توقع تھی کہ شروع میں کچھ کشیدگی ہو سکتی ہے، بعض اوقات ایرانی پاسدارانِ انقلاب ایسی کارروائیاں کر جاتے ہیں جو ممکنہ طور پر ایرانی مذاکرات کاروں کی خواہش کے مطابق نہیں ہوتیں، اور ان کا کام انھیں قابو میں رکھنا ہے تاکہ معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے۔‘‘
ہیگستھ اور کین دونوں نے کہا کہ امریکی فوج صدر ٹرمپ کے حکم پر فوری طور پر جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکی آپریشن کے پہلے 24 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز سے تیل اور سامان کی ترسیل میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔ امریکی سینٹرل کمان کے مطابق پیر کے روز صرف 2 امریکی پرچم بردار جہاز اس راستے سے گزرے، جب کہ منگل کو کوئی نہیں گزرا۔
ہیگستھ نے دعویٰ کیا کہ سینکڑوں مزید جہاز قطار میں کھڑے ہیں، لیکن فی الحال زیادہ تر شپنگ کمپنیاں حکومت کی یقین دہانی پر مکمل اعتماد نہیں کر رہیں۔ انھوں نے کہا ہم ایران سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ محتاط رویہ اختیار کرے۔
منگل کو ایران کی جانب سے نئے حملوں کی اطلاع نہیں ملی۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے پیر کے ردعمل سے ’’نیا توازن‘‘ قائم کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ مذاکرات ’’پیش رفت کر رہے ہیں‘‘ اور انھوں نے امریکی انتظامیہ سے کہا کہ وہ ’’بدخواہوں کے ذریعے دوبارہ دلدل میں نہ پھنسے۔‘‘
دوسری طرف متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ منگل کے روز ایران نے ملک پر ایک نیا میزائل اور ڈرون حملہ کیا، جس کا دفاعی نظام نے جواب دیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


