تہران (17 جنوری 2026): انٹرنیٹ نگرانی کے ادارے نیٹ بلاکس نے کہا ہے کہ طویل بندش کے بعد ایران میں انٹرنیٹ کنکشن میں نہایت معمولی سا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں احتجاج کی شدت میں کمی آ گئی ہے اور ملک میں امن بحال ہو رہا ہے، نیٹ بلاکس کے مطابق ہفتے کے روز ملک میں مکمل انٹرنیٹ بندش کو 200 گھنٹے سے زائد وقت گزر چکا ہے اور اس دوران کنکشن کی سطح میں صرف معمولی بہتری آئی ہے۔
ادارے کے مطابق اس وقت ایران میں انٹرنیٹ تک رسائی معمول کے مقابلے میں صرف تقریباً 2 فی صد تک بحال ہو سکی ہے، جب کہ مکمل یا مؤثر بحالی کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے۔
⚠️ Update: Metrics show a very slight rise in internet connectivity in #Iran this morning after the 200 hour mark. However, overall connectivity remains at ~2% of ordinary levels and there is no indication of a significant return. pic.twitter.com/evVey3NMjp
— NetBlocks (@netblocks) January 17, 2026
دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مواصلاتی پابندیاں مرحلہ وار ختم کی جائیں گی، سرکاری منصوبے کے تحت سب سے پہلے ایس ایم ایس سروس بحال کی جائے گی، اس کے بعد ملکی انٹرنیٹ نیٹ ورک کے ذریعے کنکشن فراہم کیا جائے گا، اور مقامی میسجنگ ایپس جیسے ایتا اور سروش کو فعال کیا جائے گا۔
دنیا خلائی مواصلات کے غیر معمولی مرحلے میں داخل، ایران میں اسٹارلنک کو پیچیدہ صورتحال کا سامنا
خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق بین الاقوامی انٹرنیٹ سے رابطے کی بحالی تیسرے مرحلے میں کی جائے گی۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ انٹرنیٹ تک رسائی محدود کرنے کا فیصلہ بیرونی سائبر حملوں اور تخریب کاری کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا تھا۔ اس کے برعکس انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ یہ اقدامات احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائیوں کو چھپانے کے لیے کیے گئے۔
واضح رہے کہ ایران میں احتجاجی مظاہروں کا آغاز 28 دسمبر کو معاشی مسائل کے خلاف ہوا تھا۔ ابتدا میں یہ مظاہرے تہران کے مرکزی بازار تک محدود رہے، تاہم بعد میں یہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف وسیع تنقید میں تبدیل ہو گئے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


