The news is by your side.

Advertisement

ایران پر سعودی تیل تنصیبات پر حملے کا الزام روسی صدر نے مسترد کردیا

ماسکو: روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے ایران پر سعودی تیل تنصیبات پر حملے کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دہشت گردی میں ایران کا کوئی کردار نہیں ہے۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کا انرجی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں مگر اس میں ایران ملوث نہیں ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر حسن روحانی نے ذاتی طور پر بتایا کہ تہران کا ان حملوں میں کوئی کردار نہیں ہے۔ پیوٹن کا کہنا تھا کہ تیل تنصیبات پر حملوں کا الزام ایران پر لگائے جانے کے خلاف ہیں۔

روسی صدر کا مزید کہنا تھا کہ امریکا حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکا، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تہران حکومت کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔

جبکہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ یہ دعویٰ کرچکا ہے کہ سعودی عرب کی آئل فیکٹریوں پر حملے میں ایرانی ڈرون طیارے استعمال ہوئے جنہیں عراقی سرزمین سے اڑایا گیا تھا۔

آئل فیکٹری پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنا جانتے ہیں: سعودی عرب

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ سعودی عرب میں دمام کے قریب سعودی عرب کی آئل کمپنی آرامکو کی 2 فیکٹریز پر ڈرون حملے کیے گئے تھے، آئل ریفائنریز میں دھماکے کے بعد آگ لگ گئی تھی، حملے کی ذمہ داری یمن کے حوثی باغیوں نے قبول کر لی تھی۔

حملے کے بعد سعودی خام تیل کی پیداوار میں 57 لاکھ بیرل کی کمی ہوئی، بین الاقوامی ماہرین کے مطابق یہ تاریخ کی بدترین بندش تھی۔ حملے کے بعد خام تیل کی قیمت میں 15 فیصد اضافہ بھی ہوگیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں