تہران (9 مارچ 2026): ایران میں تیل کی تنصیبات پر خوفناک بمباری کے بعد آسمان سے سیاہ پانی کی بارش کے بعد پڑوسی ممالک میں اثرات کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
ایران پر جاری حملوں کے دوران اسرائیل اور امریکا کی ایران میں تیل کی تنصیبات پر خوفناک بمباری کے بعد تہران میں ماحول اس قدر آلودہ ہو گیا کہ آسمان پر سیاہ بادل چھا گئے اور تیل کے ملاوٹ شدہ کالے پانی کی بارش ہوئی ہے۔
تہران میں اس صورتحال کے بعد پڑوسی ممالک کے اس کے موسمی اثرات کے اثر انداز ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ خصوصاً پاکستان میں اس حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں، کیونکہ ایران اور پاکستان کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔
اس حوالے سے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ تیل کی تنصیاب پر حملوں سے ایران میں شدید ماحولیاتی نقصان ہوا ہے اور تہران سمیت قریبی علاقوں میں کالی تیزابی بارش کی اطلاعات بھی ہیں۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان میںٓ اب تک اس کے کوئی براہ راست اثرات نہیں دیکھے گئے ہیں لیکن صورتحال کو مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے، خاص طور پر جنوبی ایران کے پاکستانی صوبوں جیسے بلوچستان اور سندھ سے قریب ہونے کے پیش نظر۔
اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران پاکستان سے بہت دور ایران کے شمال مغرب میں واقع ہے اور کسی بھی فوری ماحولیاتی نقصان کا سب سے پہلے افغانستان پر اثر پڑے گا۔
محکمہ موسمیات نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ حملوں سے زیادہ کاربن کا اخراج اوپری ماحول کے درجہ حرارت کا باعث بن کر نمی کی سطح کو تبدیل کر سکتا ہے اور ممکنہ طور پر پاکستان کے کچھ حصوں سمیت پڑوسی علاقوں میں بارش کے نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔
حکام کے مطابق تیل کے بنیادی ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر حملوں کے نتیجے میں ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیاں خطے میں زراعت، آبی وسائل اور صحت عامہ پر طویل مدتی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ خطے میں آلودگی کی سطح اور ہوا کے معیار کو ٹریک کرنے کے لیے سیٹلائٹ مانیٹرنگ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
ایران اسرائیل جنگ سے متعلق تمام خبریں
محکمہ موسمیات نے شہریوں اور پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ سرکاری چینلز کے ذریعے اپ ڈیٹ رہیں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر تصدیق شدہ رپورٹس پر انحصار کرنے سے گریز کریں۔
ایران میں آسمان سے کالے پانی کی بارش ، شہریوں کو خبردار کردیا گیا
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


