(17 مارچ 2026): ایران اسرائیل اور امریکا جنگ کے باعث خطے میں کشیدگی ہی نہیں بڑھی بلکہ دنیا کے لیے نیا معاشی محاذ کھل گیا ہے۔
ایران اسرائیل اور امریکا جنگ 18 ویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ ایک جانب جہاں امریکا اور اسرائیل مشترکہ طور پر ایران پر فضائی حملے کر رہے ہیں، وہیں ایران خطے میں موجود امریکی اڈوں پر حملے کر رہا ہے اور دونوں جانب سے بڑے بڑے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
تاہم اس جنگ کا اہم پہلو آبنائے ہرمز ہے، جس کو ایران نے اسرائیلی حملوں کے بعد بند کرنے کا اعلان کیا اور اب یہ اہم گزرگار مکمل طور پر بند ہے اور اس کی بندش سے دنیا میں نیا معاشی محاذ کھل گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ کے باعث صرف خطے میں کشیدگی ہی نہیں بڑھی بلکہ دنیا بھر میں ایندھن کا بحران بھی سر اٹھا رہا ہے اور اس جنگ کے باعث عالمی معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
آبنائے ہرمز وہ اہم آبی گزرگاہ ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل گزر کر دنیا کی مختلف منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ 17 روز سے یہ آبی گزرگاہ ایران نے بند کر رکھی ہے، جس سے تیل فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔
صرف تیل کی فراہمی نہیں بلکہ اس سے دیگر ضروری اشیا کی قلت اور مہنگائی بڑھنے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ تیل کی بڑی امریکی کمپنیوں نے حکومت کو خبردار کر دیا ہے کہ امریکا میں توانائی کا بحران مزید سنگین ہونےکا خدشہ ہے۔
ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں
ادھر برطانیہ میں بھی ایران جنگ کے اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ایک لاکھ سے زائد افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے۔ بیروزگاری کی شرح 5.2 فیصد سے بڑھ کر 5.5 فیصد ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی حفاظت میں مدد نہ ملی تو نیٹو کا مستقبل ’برا‘ ہوگا، ٹرمپ کی اتحادیوں کو وارننگ
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


