(9 مارچ 2026): ایران جنگ اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی جاری رہی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمت کہاں تک جا سکتی ہے وارننگ ہو گئی۔
اسرائیل اور امریکی حملوں کے بعد ایران کے جوابی وار جاری ہے، جس نے مشرق وسطیٰ کو جنگ کی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے اور اس کا نتیجہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کی صورت میں نکل رہا ہے۔
اگر یہ جنگ مزید کچھ عرصہ جاری رہتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی قیمت کہاں تک جا سکتی ہے۔ اس بارے میں قطر کے وزیر توانائی نے انتباہ جاری کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق قطر کے وزیر توانائی سعد الکعبی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران جنگ کے باعث خلیجی توانائی کی پیداوار میں خلل پڑتا ہے تو خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کعبی نے خبردار کیا کہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ عالمی توانائی کی سپلائی کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔ اگر تناؤ مزید بڑھتا ہے تو خلیجی توانائی کے برآمد کنندگان دنوں کے اندر پیداوار روکنے پر مجبور ہو سکتے ہیں، ممکنہ طور پر خام تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔
قطری وزیر نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے کاروباری سرگرمیاں غیر مستحکم ہو جائیں گی۔
انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر تنازع فوری طور پر ختم ہو بھی جاتا ہے تو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی چین کو معمول پر آنے میں ہفتوں سے مہینوں تک کا وقت لگ سکتا ہے۔ ان کے اس انتباہ نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
ایران اسرائیل جنگ سے متعلق تمام خبریں
دوسری جانب مشرقی وسطیٰ میں جاری جنگ اور امریکا کی آبنائے ہرمز کھولنے میں ناکامی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی فی بیرل قیمت 100 ڈالر سے بڑھ گئی اور ایسا 2022 کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 23فیصد اضافےسے114.36ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی خام تیل 27فیصد بڑھ کر 115.11 ڈالر فی بیرل کا ہوگیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ترجمان ایرانی فوج نےایک بیان میں کہا تھا دشمن تیل کی قیمت دو سو ڈالر فی بیرل سے زائد برداشت کرسکتا ہے تو کھیل جاری رکھے۔ دشمن جب تک تیل کی بڑھتی قیمتیں برداشت کرسکتا، جنگ جاری رکھے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


