واشنگٹن (6 مارچ 2026): ایران سے جنگ کے نتیجے میں امریکا میں پٹرول کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
ایران سے جنگ کے نتیجے میں دنیا کی معیشت ڈانوا ڈول ہو رہی ہے۔ تیل اور گیس کی ترسیل بند ہونے کی وجہ سے ان کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ تاہم مہنگائی کی اس لہر سے صرف دنیا ہی نہیں بلکہ خود امریکی عوام بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
ایران سے جنگ کے پہلے ہفتہ میں ہی امریکا میں پٹرول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور قیمتیں بلند ترین سطح پر جا پہنچی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا میں پٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافہ جاری ہے اور اب اوسط قیمت 3.25 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے جو ہفتہ پہلے کے مقابلے میں تقریباً 27 سینٹ زیادہ ہے۔
امریکی آٹو موبائل ایسوسی ایشن کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکی اوسط پٹرول قیمت میں ایک ہی دن میں11 سینٹ تک اضافہ دیکھا گیا جو چار برس میں سب سے بڑا روزانہ اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران اور اسرائیل امریکا جنگ سے متعلق تمام خبریں
ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو آئندہ ہفتوں میں امریکا میں پٹرول کی قیمتیں 3.25 سے 3.50 ڈالر فی گیلن تک جا سکتی ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


