نئی دہلی (12 اپریل 2026): پاکستان کی کامیاب ثالثی اور مذاکرات کی میزبانی پر بھارتی میڈیا پاگل ہو گیا اور بے پر کی اڑا کر دنیا میں اپنا مذاق بنوا رہا ہے۔
پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی بدولت ایران امریکا جنگ بندی کرا کے تیسری عالمی جنگ کا راستہ روکنے پر بھارت میں پہلے ہی صف ماتم بچھی ہوئی تھی۔ اس پر ایران امریکا امن مذاکرات کی میزبانی اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی پاکستان آمد نے گویا وہاں آگ لگا دی۔
جے ڈی وینس کی پاکستان آمد پر بھارت کا مین اسٹریم میڈیا ایسا بد حواس اور پاگل ہوا کہ ایسی ایسی مضحکہ خیز جھوٹی خبریں دیں اور بے پرکی اڑائی کہ دنیا میں اپنا مذاق خود بنوایا۔ جو بھی بھارتی میڈیا کو دیکھ رہا ہے وہ قہقہے لگانے پر مجبور ہو رہا ہے۔
بھارتی ٹی وی انڈیا ٹوڈے پر اینکر نے بوکھلاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے بریکنگ نیوز کے طور پر دعویٰ کیا کہ جے ڈی وینس پاکستان نہیں پہنچیں گے اور ممکنہ طور پر دورانِ سفر اپنا رخ تبدیل کر کے امریکا واپس جا سکتے ہیں۔
جے ڈی وینس نے اپنے بڑے وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ کر بھارتی ٹی وی کی منفی اور جھوٹی رپورٹنگ کا پول کھول دیا۔
اسی بھارتی اینکر نے حد سے زیادہ جھنجھلاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو اپنے تئیں ٹی وی اینکر کے بجائے سیاسی مشیر سمجھا اور کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ امریکا اس بات کو سمجھے گا کہ جے ڈی وینس کو پاکستان نہیں آنا چاہیے، کیونکہ کوئی بھی پاکستان کو اس کا (جنگ بندی ) کریڈٹ نہیں دینا چاہتا۔
مذکورہ اینکر نے اپنی عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے یہ خبر بھی اڑائی کہ اس وقت پدمنابھ سوامی مندر میں پراتھنائیں ہو رہی ہیں جہاں وزیر اعظم مودی نے پنڈتوں کو تین، تین ہزار روپے دیے ہیں تاکہ وہ جے ڈی وینس کا طیارہ پاکستان نہ پہنچنے اور درمیان سے واپس پلٹ جانے کی دعا کریں۔
اس مضحکہ خیز صحافت پر پاکستانی اور عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت اپنی روایتی ہٹ دھرمی کے باعث پاکستان کی یہ کامیابی ہضم نہیں کر پا رہا اور تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی دنیا کو اس سے بچانے کی کوششوں کے موقع پر بھی بھارتی میڈیا بچکانہ اور احمقانہ حرکتیں کر رہا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


