تہران (13 مارچ 2026): ایران اسرائیل اور امریکا کی جنگ 13 ویں روز بھی جاری ہے مگر ایران کے مچھروں کے بیڑے سے امریکا خوفزدہ ہے۔
ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد جنگ 13 روز میں داخل ہو چکی ہے۔ اس دوران فریقین کا بڑا جانی اور مالی نقصان ہو چکا ہے، مگر جنگ ختم ہونے کے فی الحال کوئی امکانات نظر نہیں آ رہے ہیں۔
اس جنگ کے دوران ہی ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر کے دنیا بھر میں تیل کی ترسیل روک دی ہے، جس کے باعث توانائی بحران شدت سے سر اٹھا رہا ہے اور تیل کی قیمتیں عالمی سطح پر مسلسل اضافے کی جانب جا رہی ہیں۔
آبنائے ہرمز پر مکمل اور مضبوط کنٹرول کے لیے دونوں فریقین اپنی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس کے لیے جہاں ایران نے ایک خصوصی بحری دستہ تیار کیا ہے، لیکن وہ ابھی مکمل طور پر میدان میں نہیں اترا جب کہ امریکا نے خلیجی علاقے میں اپنے تین بڑے طیارہ بردار جنگی بحری جہاز بھیج دیے ہیں لیکن وہ بھی ابھی تک آبنائے ہرمز کی طرف نہیں بڑھے ہیں۔
ایران کی فورسز ایسے ہتھیاروں کے ساتھ آبنائے ہرمز کے قریب تیار بیٹھی ہیں جو بڑی طاقتوں کے دفاعی نظام کو تھکا سکتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران امریکا کی سوچوں کے برعکس ایک مضبوط حریف کے طور پر مقابلہ کر رہا ہے اور امریکا کو ایران کے ’’مچھروں کے بیڑے‘‘ کی فکر ہے، جو اب تک جنگی میدان میں نہیں آیا ہے۔
“مچھروں کا بیڑا” کیا ہے؟
ایران کی چھوٹی تیز رفتار کشتیوں نے اب تک جنگ میں بڑا اثر نہیں دکھایا لیکن سمندری محاصرہ کی حکمت عملی میں ان کشتیوں کو “Mosquito Fleet” (مچھر بیڑا) کہا جاتا ہے اور ان کا کردار بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔
تقریباً 10 ٹن وزن والی ان فاسٹ بوٹس کی تعداد ایران کی آئی آر جی سی نیوی کے پاس تقریباً 1500 بتائی جاتی ہے۔ یہ چھوٹی کشتیاں امریکا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آ رہی ہیں۔
اس بیڑے میں ایران نے دوسری عالمی جنگ کے دوران استعمال ہونے والی پی ٹی بوٹس کی حکمت عملی کو جدید اینٹی شپ میزائل بوٹس کے ساتھ ملا کر استعمال کیا ہے۔ اور ایک محتاط اندازے کے مطابق ان میں سے تقریباً 300 کشتیاں میزائل بردار ہیں۔
یہ کشتیاں 50 سے 110 ناٹس کی رفتار سے سمندر میں بہت تیزی سے حرکت کرتی ہیں اور ان پر نصر اور کوثر جیسے کم فاصلے تک مار کرنے والے سپر سونک گائیڈڈ میزائل نصب کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ ساحلی علاقوں سے داغے جانے والے غدر، ظفر اور ابو مہدی جیسے میزائل بھی موجود ہیں۔ یہ چھوٹی کشتیاں سمندر میں اسمارٹ بارودی سرنگیں (Smart Mines) بچھانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔
اگر یہ چھوٹی کشتیاں گروپ کی شکل میں حملہ کریں تو بڑے جنگی جہازوں کے ٹارگٹنگ سسٹم کو بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
بغیر کشتی بان ڈرون کشتیاں:
ایران کی تیار کردہ چھوٹی ڈرون بوٹس تیل بردار ٹینکروں کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔ چھوٹی فائبر گلاس یا لکڑی کی کشتیوں کو بغیر انسان کے چلنے والی کشتیوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔ ایران سے منسلک حوثی گروہ پہلے ہی ڈرون بوٹس استعمال کر چکا ہے، اور ان کے ذریعے ٹینکروں پر حملے کیے جا چکے ہیں۔
ان کشتیوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ چار دن تک 600 کلومیٹر کے دائرے میں گشت کر سکتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر جہازوں پر حملہ بھی کر سکتی ہے۔ اسی لیے ان کو “خاموش قاتل” کا نام دیا گیا ہے۔
ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں
ان کشتیوں کو خاص طور پر امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اسے فضائی نگرانی کے ذریعے تلاش کرنا اور تباہ کرنا بہت مشکل سمجھا جاتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں



