تہران (11 مارچ 2026): اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ایرانی حملے میں مارے جانے یا زخمی ہونے کی افواہیں تیری سے پھیل رہی ہیں۔
ایرانی اور متعدد ممالک کے خبر رساں ادروں نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے کچھ دن سے منظر عام سے غائب ہونے پر ان کے ایرانی حملے میں مارے جانے یا زخمی ہونے کی افواہیں پھیل رہی ہیں۔
ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی ممکنہ موت یا زخمی ہونے کے حوالے سے قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران پر حملوں کے بعد عمومی طور پر اسرائیلی وزیراعظم کی روز کم از کم ایک اور بعض اوقات تین ویڈیوز ریلیز کی جا رہی تھیں۔
تاہم اب نیتن یاہو کی آخری ویڈیو کو ان کے ذاتی چینل پر پوسٹ ہوئے تقریباً تین دن ہو چکے ہیں، جب کہ ان کی آخری تصاویر شائع ہوئے تقریباً چار دن ہو چکے ہیں، جس نے ان قیاس آرائیوں کو مزید جلا بخشی ہے۔
اس کے علاوہ متعدد عبرانی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ 8 مارچ کو، رپورٹس سامنے آئیں کہ نیتن یاہو کے گھر کے ارد گرد سیکورٹی کا دائرہ بڑھا دیا گیا ہے، خاص طور پر ممکنہ خودکش ڈرون کا مقابلہ کرنے کے لیے۔
اس کے علاوہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جیرڈ کشنر (ٹرمپ کے داماد) اور اسٹیو وٹ کوف (ٹرمپ کے خصوصی نمائندے) کے اسرائیل کے طے شدہ دورے کی منسوخی کی وجہ بھی یہی صورتحال ہے۔
اس رپورٹ میں سابق امریکی انٹیلی جنس افسر اسکاٹ رِٹر کے ایک بیان کا حوالہ بھی دیا گیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران نے نیتن یاہو کے ممکنہ ٹھکانے کو نشانہ بنایا اور اس حملے میں ان کے بھائی کی ہلاکت ہوئی۔ تاہم تسنیم نیوز نے خود بھی تسلیم کیا کہ اس دعوے کی کوئی سرکاری تصدیق یا تردید موجود نہیں۔
ایران اسرائیل جنگ سے متعلق تمام خبریں
ایلیسی پیلس نے کال کے بارے میں ایک خبر میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور نیتن یاہو کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت کی تاریخ بھی نہیں بتائی، اور اس مبینہ گفتگو کا صرف ایک متن جاری کیا گیا۔
دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو مبینہ حملے میں ہلاک یا زخمی ہو سکتے ہیں، جس کے بعد یہ سوال جنم لے رہا ہے کہ کیا بنجمن نیتن یاہو کو ایرانی میزائل اور ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے؟
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


