امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر حملہ کرکے امریکی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا جُوا کھیلا، فضائی حملوں سے ایران میں "رجیم چینج” کا ہدف مشکل ہوگا۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر اچانک حملوں کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حملے کے ذریعے امریکی صدر ٹرمپ نے بھرپور طاقت کا استعمال کیا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ان کی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا اور پرخطر جُوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ جنگ افغانستان اور عراق کی جنگوں کے بعد امریکا کی سب سے بڑی فوجی مہم بھی بن سکتی ہے۔
ٹرمپ نے گزشتہ روز اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف باقاعدہ جنگی کارروائی کا آغاز تو کیا لیکن امریکی عوام کو اس فوجی مہم کی واضح وجوہات فراہم نہیں کیں۔
ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ اقدام پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے، بالخصوص تیل سے مالا مال خطے میں بہت بڑی جنگ کا خطرہ موجود ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران میں حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) کا ہدف بھی پیش کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ فضائی حملے ایرانی عوام کو حکمرانوں کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرسکتے ہیں۔
تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف فضائی طاقت کے ذریعے کسی حکومت کا خاتمہ تاریخ میں شاذ و نادر ہی ممکن ہوا ہے اور وہ بھی بغیر زمینی افواج کی شمولیت کے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایرانی اپوزیشن منتشر ہے اور یہ واضح نہیں کہ عوام موجودہ حکومت کے خلاف کس حد تک اٹھ کھڑے ہوں گے۔
اگرچہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ایران کے میزائل فوری طور پر امریکا کے لیے خطرہ نہیں ہیں، ایران اپنے جوہری پروگرام کے عسکری عزائم کی تردید کرتا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابتدائی حملوں میں ایرانی انقلابی گارڈز کے کئی اعلیٰ کمانڈرز مارے جا چکے ہیں، حتیٰ کہ اگر اعلیٰ قیادت کو ہٹا بھی دیا جائے تو 9 کروڑ 30 لاکھ آبادی والے ملک میں انتشار یا فوجی حکومت کے قیام کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے، جو مغرب کے لیے مزید سخت مؤقف اختیار کرسکتی ہے۔
ایران اسرائیل جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں
واشنگٹن کے تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز سے وابستہ ماہر جون آلٹرمن کے مطابق، فضا سے حکومتیں تبدیل کرنا آسان نہیں ہوتا اور نہ ہی ایرانی عوام کے ذہن بدلے جاسکتے ہیں۔
سابق امریکی سفیر اور پینٹاگون کے عہدیدار ڈینیئل شاپیرو کے مطابق ایران کے پاس امریکا کے مقابلے میں زیادہ بیلسٹک میزائل ہیں جو امریکی اڈوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ کچھ ایرانی ہتھیار دفاعی نظام سے گزرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ان کے بقول یہ اقدام ایک ’’بڑا جُوا‘‘ ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کو ان حملوں سے قبل ممکنہ امریکی جانی نقصان اور خطے میں بڑی جنگ کے خطرات سے بھی آگاہ کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق اب یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا ایران پر حملہ ٹرمپ کے لیے تاریخی کامیابی ثابت ہوتا ہے یا مشرقِ وسطیٰ میں ایک طویل اور پیچیدہ جنگ کے آغاز کا سبب بنتا ہے۔
ایران نے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق کر دی، بدلہ لینے کا اعلان
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


