اتوار, جون 7, 2026
اشتہار

دوران جنگ ٹرمپ کو ایران سے دوبارہ مذاکرات پر کس نے مجبور کیا؟ بڑی خبر آ گئی

اشتہار

حیرت انگیز

واشنگٹن (24 مارچ 2026): ایران سے جنگ کے 24 ویں روز اچانک ٹرمپ نے کس کے دباؤ میں آ کر ایران سے دوبارہ مذاکرات کی بات کی ہے۔

ایران کی اسرائیل اور امریکا سے جنگ 25 ویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔ اس دوران کئی بار ایران کو تباہ کرنے اور جنگ جیتنے کے دعوے کرنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے 24 ویں بڑا یو ٹرن لے لیا۔

ٹرمپ جنہوں نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت اور مہلت گزرنے کے بعد ایران کے تمام بجلی گھروں کو تباہ کرننے کی دھمکی دی تھی۔ تاہم گزشتہ روز اچانک انہوں نے یہ دھمکی واپس لیتے ہوئے حملہ پانچ دن موخر کرنے اور ایران سے دوبارہ مذاکرات کی بات کی۔

ہر وقت جنگ پر آمادہ اور ایران کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے خواہشمند امریکی صدر ٹرمپ کے رویے میں اچانک یہ تبدیلی کیسے آئی۔ امریکی ادارے بلوم برگ نے اس سے پردہ اٹھا دیا۔

بلوم برگ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدرٹرمپ نے اتحادیوں کی وارننگ کے بعد مذاکرات کا آغاز کیا۔ وہ خلیجی ملکوں کی وارننگ کے بعد ٹرمپ ایرانی انفرا اسٹرکچرکو تباہ کرنے سے پیچھے ہٹے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک نے خبردار کیا تھا کہ اس اقدام کے تباہ کُن نتائج ہو سکتے ہیں۔

 

ایران اسرائیل جنگ سے متعلق تمام تفصیلات

اس تنبیہہ کے بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ایران کو پانچ دن کی مہلت دے رہےہیں۔ اور تہران کے ساتھ نئی بات چیت شروع ہو رہی ہے، جس کے ذریعے وہ سمجھتے ہیں کہ کسی معاہدے تک پہنچ کر تنازع حل کیا جا سکتا ہے۔

ایران جنگ: خطے میں اب تک کتنی اموات ہو چکیں، ہوشربا تفصیلات جاری

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں