واشنگٹن (13 مارچ 2026): امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق پیٹ ہیگسیتھ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہو چکے ہیں، ایران کی جنگ میں کوئی رحم نہیں آج تہران پر سب سے سخت حملے ہوں گے۔
امریکی وزیر جنگ نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز میں جو کچھ ہو رہا ہے دنیا کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت نے بنکرز اور شہری علاقوں کا رخ کر لیا ہے، وہ زیر زمین پناہ لینے پر مجبور ہوگئی ہے۔
ایران، اسرائیل اور امریکا جنگ سے متعلق تمام خبریں
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کب ختم ہوگی اس کا تعین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے، بہت جلد ایران کی دفاعی کمپنیاں تباہ کر دی جائیں گی، اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر توانائی بحران سے نمٹنے کیلیے کام کر رہے ہیں، آبنائے ہرمز کی اہمیت جانتے ہیں وہاں سے پیٹرول کی آمد و رفت یقینی بنائیں گے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا کہ ایران میں 15 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنا کر بڑی فوجی کامیابیاں حاصل کیں، ایران کی تمام معنیٰ خیز صلاحیتوں کو تباہ کرنے کے منصوبے پر ہیں۔
امریکی وزیر جنگ کا کہنا تھا کہ مناب میں اسکول پر جو فضائی حملہ ہوا اس کی تحقیقات جاری ہیں۔
پیٹ ہیگسیتھ نے مزید کہا کہ لوگ چاہے جو بھی کہیں ایران پر حملہ امریکا کا 47 سال پرانا مشن ہے، ہمارے اہداف واضح ہیں اور امریکی مفادات ہمارے لیے ترجیح ہیں، قطر میں امریکی بیس پر معمولی زخمی ہونے والے 90 فیصد فوجی واپس ڈیوٹی پر آگئے۔
دوسری جانب، امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی جنگی صلاحیت میں مسلسل کمی آ رہی ہے تاہم وہ اب بھی بحری جہازوں پر حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جنرل ڈین کین نے مزید کہا کہ عراق میں گرنے والا طیارہ دشمن کا نشانہ نہیں بنا ریسکیو آپریشن جاری ہے، ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہلخانہ سے ہمدردی ہے، ایران کی سمندری مائنز بچھانے کی صلاحیتیں ہمارے نشانے پر ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


