حقوق نسواں کی حمایت میں ٹیٹو پر ایران میں تنازعہ -
The news is by your side.

Advertisement

حقوق نسواں کی حمایت میں ٹیٹو پر ایران میں تنازعہ

تہران: ایران میں ایک ماڈل کو اپنے بازو پر حقوق نسواں کی حمایت میں ایک ٹیٹو بنوانے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ یہ ٹیٹو ایک تقریب کے دوران ظاہر ہوا۔

ایرانی ماڈل ترانہ علی دوستی کینز فلم فیسٹیول سے واپسی پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ملاقات کر رہی تھیں۔ کینز میں ان کی فلم ’دا سیلزمین‘ کو 2 ایوارڈز ملے۔

    تقریب کے دوران ان کا آستین ذرا سا کھسک گیا اور ان کے بازو پر بنا ٹیٹو سامنے آگیا۔ ٹیٹو حقوق نسواں کی حمایت میں بنایا گیا تھا اور خواتین کی خود مختاری کو ظاہر کرتا تھا۔ model-2

واضح رہے کہ ایران میں حقوق نسواں اور خواتین کی خود مختاری ایک متنازعہ موضوع ہے۔ بعض افراد کے مطابق یہ تصویر جعلی ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ اس ٹیٹو کے ذریعے وہ خواتین میں ابارشن کے عمل کی حمایت کر رہی ہیں جو اسلام میں حرام ہے۔ model-3

ترانہ نے تمام اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا، ’ہاں میں حقوق نسواں کی حامی ہوں۔ فیمنسٹ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ تمام معاشی، سیاسی اور معاشرتی حقوق کی تمام اصناف میں برابر تقسیم کے قائل ہیں‘۔  

ترانہ کینز فیسٹیول میں پہنے جانے والا لباسوں کی وجہ سے بھی تنقید کی زد میں ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں