ہفتہ, مارچ 14, 2026
اشتہار

ایران کی بحری مشقوں پر امریکی سینٹرل کمانڈ کا رد عمل

اشتہار

حیرت انگیز

واشنگٹن (31 جنوری 2026): امریکی سینٹرل کمانڈ نے بحری مشقوں پر ایرانی پاسداران انقلاب کو خبردار کیا ہے کہ ایرانی مشقوں سے بحری ٹریفک متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

سینٹ کام نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے روزانہ 100 تجارتی جہاز گزرتے ہیں، اس لیے کسی بھی غیر محفوظ اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا، ایران بحری مشقوں کو پیشہ ورانہ انداز میں انجام دے۔

یاد رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی دو روزہ بحری مشقیں کل سے شروع ہوں گی۔ جس پر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب پر زور دیا ہے کہ وہ سمندر میں اشتعال انگیز رویے سے گریز کرے۔

سینٹ کام نے کہا کہ امریکی افواج بین الاقوامی فضائی حدود اور پانیوں میں کام کرنے کے ایرانی حق کو تسلیم کرتی ہیں، تاہم امریکی فوجی جہازوں کے اوپر پرواز کرنے، ان کے قریب کشتیاں لانے یا امریکی افواج کی جانب ہتھیاروں کا رخ کرنے جیسے اقدامات کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

صرف ایران جانتا ہے اس کو کیا ڈیڈ لائن ملی ہے، وہ ڈیل کا خواہاں ہے: ٹرمپ کا دعویٰ

ایرانی ٹی وی نے گزشتہ جمعرات کو خبر دی تھی کہ پاسدارانِ انقلاب یکم اور دو فروری 2026 کو آبنائے ہرمز میں براہِ راست گولہ باری کی مشقیں کر رہے ہیں۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں اس یقین کا اظہار کیا تھا کہ ایران فوجی حملے سے بچنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ حملے سے بچنے کے لیے ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے ایران کو کوئی مخصوص مہلت دی ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ ہاں میں نے ایسا کیا ہے اور صرف تہران ہی اس مہلت کے بارے میں جانتا ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں