The news is by your side.

Advertisement

برطانوی وزیر خارجہ ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے امریکا پہنچ گئے

واشنگٹن : برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن امریکا پہنچ گئے جہاں وہ امریکی صدر سے ملاقات کریں گے اور ایران کے ساتھ طے ہونے والے جوہری معاہدے سے متعلق گفتگو بھی کریں گے.

تفصیلات کے مطابق ایران کے ساتھ طے ہونے والے جوہری معاہدے کی منسوخی کے حوالے سے امریکا اور ایران کے درمیان حالات پھر کشیدہ ہونے لگے، برطانیہ کے وزیر خارجہ بورس جانسن ایٹمی معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایٹمی معاہدے پر باقی رکھنے کے لیے امریکا پہنچ گئے۔

برطانیہ اور دیگر یورپی اتحادی امریکا کو منانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ سنہ 2015 میں ایران کے ساتھ طے ہونے والے جوہری معاہدے کو جاری رکھا جاسکے۔

برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن دورہ امریکا کے دوران امریکی نائب صدر، مائیک پینس، مشیر برائے قومی سلامتی جون بولٹن سے بھی ملاقات کریں گے. ان کا کہنا تھا کہ ’امریکا اور برطانیہ ایک ہی وقت میں ایک ہی ہدف پر کام کررہے ہیں، چاہے وہ شام میں کیمیائی حملوں کی روک تھا ہو یا لندن کے شہر سالسبری میں سابق روسی جاسوس کو زہر دینے کا معاملہ ہو‘۔

بورس جانسن کا کہنا تھا کہ امریکا، برطانیہ اور یورپی اتحادیوں متحد ہیں تاکہ مشرق وسطیٰ میں ایران کی مداخلت کو کنٹرول کرنے، لبنان کی تنظیم حزب اللہ کی حمایت اور یمنی حوثی جنگجؤوں کو خطرناک میزائل کی فراہمی سے روک سکیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شروع سے ہی ایران اور امریکا سمیت چھ عالمی طاقتوں کے مابین ہونے والے ایٹمی معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے مذکورہ معاہدے کو ’پاگل پن‘ قرار دیتے آئے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے ہفتے کے روز ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات کرتے ہوئے یقین دلایا کہ ’ایران معاہدے کے مطابق کوئی بھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کررہا‘۔

یاد رہے کہ سابق امریکی صدر باراک اوبامہ کے دور صدرات میں فرانس، برطانیہ، چین، روس، جرمنی، امریکا اور ایران کے درمیان جوہری ہتھیار کے حصول کو ترک کرنے کا معاہدہ طے ہوا جس کے تحت عالمی طاقتوں نے ایران پر لگائی گئی اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی تھی۔

واضح رہے کہ جرمنی، برطانیہ اور فرانس موجودہ معاہدے پر متفق ہیں جس کے ذریعے ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکا جاسکتا ہے جبکہ اقوام متحدہ بھی امریکا کو ایٹمی معاہدے کو ختم کرنے کے خطرناک نتائج سے خبردار کرچکا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں