تہران (31 جنوری 2026): ترکیہ نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیش کش کر دی۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے جمعہ کو ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی جس میں دو طرفہ تعلقات اور خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے کہا ہم جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہیں، خلیج میں بھاری فوجی تعیناتیوں کے بعد امریکا کے ساتھ سفارت کاری کی کامیابی کا دار و مدار دھمکی آمیز رویے کے خاتمے پر ہے۔
ترک کمیونیکیشن ڈائریکٹوریٹ کے ایک بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے ترک ایران تعلقات کے ساتھ ساتھ حالیہ کشیدگی سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات کا بھی جائزہ لیا۔ اردوان نے زور دیا کہ ترکی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور دیگر مسائل کو حل کرنے میں مدد دینے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
ایران کے خلاف امریکی دھمکییاں، IAEA کے سابق سربراہ نے خاموشی توڑ دی
گزشتہ روزایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی استنبول میں ترک صدر سے ملاقات کی تھی، جس میں خطے کی صورت حال زیر بحث آئی، پریس کانفرنس میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ایران کو مذاکرات پر اعتراض نہیں لیکن دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات نہیں ہو سکتے۔
ادھر، ایران کے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے ماسکو کا غیر اعلانیہ دورہ کیا ہے، جہاں انھوں نے روسی صدر پیوٹن سے ملاقات کی، اس موقع پر مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا، ترجمان کریملن نے بتایا کہ دوران گفتگو خطے کی صورت حال، روس اور ایران کے درمیان اقتصادی تعلقات پر بات چیت ہوئی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


