تہران(12 جنوری 2026): ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہےکہ ہم جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے لیکن ساتھ ہی منصفانہ مذاکرات کے لیے بھی آمادہ ہے۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے کہ ایرانی قیادت مذاکرات چاہتی ہے، جبکہ انہوں نے احتجاجی مظاہروں پر کریک ڈاؤن کے معاملے پر فوجی مداخلت کی دھمکی دی تھی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں غیر ملکی سفیروں کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران جنگ کا خواہشمند نہیں ہے لیکن جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا "ہم مذاکرات کے لیے بھی تیار ہیں لیکن یہ مذاکرات منصفانہ ہونے چاہئیں، مذاکرات برابر حقوق پر مبنی ہوں اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہوں۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر ٹرمپ نے فوجی کارروائی کی تو ایران اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی مفادات پر حملہ کرے گا۔ جس کے بعد اسرائیل کو ہائی الرٹ قرار دیا گیا ہے۔
یہ بیان ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں اور امریکی دباؤ کے تناظر میں اہم ہے، جہاں ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو مذاکرات کی طرف راغب ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔


