ایتھنز/لندن (12 جنوری 2026): ایران میں بگڑتی ہوئی داخلی صورت حال کے خلاف دنیا بھر میں ایرانی باشندوں نے مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔
یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں ایرانی کمیونٹی سڑکوں پر نکل آئی اور یونانی پارلیمنٹ کے سامنے مظاہرہ کیا، مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب امریکی ریاست لاس اینجلس میں بھی ہزاروں ایرانی مظاہرین سراپا احتجاج بن گئے، فرانسیسی دارالحکومت پیرس کی فضا ’’آزاد ایران‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھی۔
ایران نے جوہری معاہدے پر بات کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
لندن میں ایرانی سفارت خانے کے سامنے بھی مظاہرہ ہوا، مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر انسانی حقوق، آزادئ اظہار اور جمہوری اقدار کے حق میں نعرے درج تھے۔
وسطی لندن میں ایرانی سفارت خانے میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران ایک مظاہرہ کرنے والے شخص نے سفارت خانے کی بالکونی پر چڑھ کر ایران کا قومی پرچم اتار دیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں ایک شخص کو دکھایا گیا جو اتارے گئے پرچم کی جگہ اسلامی انقلاب سے قبل کا شیر و خورشید والا پرچم لہرا رہا ہے، جو ملک میں اپوزیشن گروہوں کی جانب سے اکثر استعمال کیا جاتا ہے۔
ایران میں انٹرنیٹ بحال کرنے کے لیے ایلون مسک سے بات کا ارادہ ہے، ٹرمپ
بعد ازاں ایرانی سفارت خانے نے اپنے ایکس (X) اکاؤنٹ پر قومی پرچم دوبارہ نصب ہونے کی تصویر شیئر کی، جس کے ساتھ کیپشن دیا گیا ’’ایران کا پرچم سربلند لہرا رہا ہے۔‘‘ میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق ہفتے کے روز کینسنگٹن میں ہونے والے اس احتجاج کے عروج کے وقت تقریباً 500 سے 1,000 افراد شریک تھے۔


